دہلی میں زہریلی اسموگ سے تعلیمی ادارے و تعمیراتی شعبے بند کردیئے گئے

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بھارت کے شہر نئی دہلی میں زہریلی اسموگ کی وجہ سے تعلیمی اداروں اور تعمیراتی شبعوں کو بند کردیا جبکہ سرکاری ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت جاری کردی۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے کہا کہ آئندہ 7 روز تک سرکاری ملازمین گھر سے کام کریں گے۔

بھارتی حکام کی جانب سے جاری ہدایت کے مطابق تعمیراتی شعبہ 4 روز تک بند رہے گا جو فضا میں آلودگی میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

وزیر اعلیٰ کی جانب سے فضائی آلودگی کو کنٹرول کرنے کی جانب سے منصوبہ ایسے وقت پر سامنے آیا جب بھارت کی عدالت عظمیٰ نے زہریلی اسموگ کے تناظر میں حکومت سے اپنے ہنگامی منصوبے کے بارے میں دریافت کیا۔

وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے کہا کہ تمام سرکاری دفاتر بند رہیں گے جبکہ نجی دفاتر کے لیے ایڈوائزری جاری ہوگی کہ وہ بھی جس قدر ممکن ہوسکے گھر سے کام کریں۔

گزشتہ ہفتے دیوالی سے فضا میں آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی اور نئی دہلی اور آس پاس کے علاقے بشمول گڑگاؤں، نوئیڈا اور غازی آبادمیں سانس لینا بھی دوبھر ہوگیا۔

دیوالی پر ہزاروں افراد نے نئی دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش میں احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی اور پٹاخے پھوڑے تھے جس کے باعث فضا میں زہریلے مادے کی مقدار بڑھ گئی۔

مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے مطابق شام 6.30 بجے نئی دہلی میں مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 427 تھا۔

400 سے زیادہ اے کیو آئی ‘خطرناک’ لیول سمجھا جاتا ہے اور یہ دل اور سانس کی بیماریوں جیسے پھیپھڑوں کے کینسر کا سبب بن سکتے ہیں۔

بھارت کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس این وی رمنا نے ریمارکس دیے تھے کہ ’آپ دیکھ رہے ہیں کہ صورتحال کتنی خراب ہے، یہاں تک کہ ہمیں گھروں میں بھی ماسک پہننے پڑتیہیں‘۔

انہوں نے استفسار کیا کہ ہمیں بتائیں کہ آپ کس طرح ہنگامی اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ دو دن کا لاک ڈاؤن؟ اے کیو آئی کو کم کرنے کے بارے میں آپ کا کیا منصوبہ ہے؟۔

جس پر ریاستی حکام نے اعتراف کیا کہ نئی دہلی کی ہوا میں سانس لینا ’ایک دن میں 20 سگریٹ پینے کے مترادف ہے‘، ہم صورتحال کی سنگینی سے متفق ہیں۔

چیف جسٹس نے نئی دہلی کو خبردار کیا کہ وہ سیاست سے بالاتر ہو کر اروند کیجریوال حکومت کے ساتھ مل کر کام کرے۔

دہلی حکومت کی سخت سرزنش کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ آپ نے دو ہفتے پہلے تمام اسکول کھول دیے تھے، جس کے بعد بچوں کو پھیپھڑوں کے مسائل کا خطرہ ہوسکتا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment