بلوچستان
12 نومبر 2021
السلام علیکم!
میرا ہمراز حمید جان!
آپ میری زندگی کے ہر پہلو اور ہر راز سے واقف تھے۔ آپ ہی ایک ایسے انسان تھے جس سے اپنی دل کی بات کہہ سکتا تھا۔ بلا جھجک اپنے زندگی کے ہر راز سے واقف رکھتا تھا۔
میں چاہتا تھا کہزندگی کے کسی موڑ میں نہ رہوں تو تم میرے سب راز افشا کرے مگر تو نے ایسا نہیں کیا۔وہ مرحلہ نہیں آیا اور آپ مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔ آپ ہی ایک ایسے شخص تھے جو مجھ بد مزاج انسان کو برداشت کرتے تھے۔
میری زندگی کے چھ سال جو خوبصورتی سے گزرے وہ خوبصورتی کے راز آپ تھے۔ میں انتشار کا شکار اور منقسم شخص تھا لیکن ہر وقت مجھے ترتیب دیتے تھے۔
حمیدجان! آپ کے بعد مجھ منتشر انسان کو ترتیب دینے والا کوئی نہیں رہا، تیرے بعد میں بے ترتیب ہوں، میں منتشر ہوں، میں یتیم ہوں۔
میری جان! تمہارے بعد میں نے ایسا کوئی انسان نہیں دیکھا جس سے میں گلہ شکوہ کرسکوں، جی ہلکا کروں۔آج تم بے حساب یاد آرہے ہو، اس لیے سوچا کہ آپ کو مخاطب کرکے اپنے دل کا بڑاس نکال دوں۔
یار حمید جان وقت ایسا آن پڑا ہے کہ ہمت نہیں بن پاتی ہے کہ کسی سے دل کی بات کہہ دوں، مجھے کہنے دو کہ میری زندگی کے رنگ و روپ ان چھ سالوں میں نکھرے جو آپ کے سنگ گزرے۔اب میرے پاس کچھ نہیں رہا افسوس تو اس بات کی ہے کہ میں اب تیرے نقشِ قدم پر چلنے کے بھی قابل نہیں ہوں بس دنیا کے ایک کونے میں ایک زندہ لاش کی طرح پڑا ہوں۔ بات یہ نہیں ہے کہ میں جنگ یا زندگی سے مایوس ہوں۔
دراصل، مجھے ترتیب دینے والا نہیں ہے، بس ایک بار آکر مجھے ترتیب دے۔ میری جان! پتا نہیں کیوں؟ مجھے لگتا ہے آپ مجھ سے ناراض ہیں، آج کل خوابوں میں بھی آپ نے آنا چھوڑدیا ہے۔
یار آپ میری زندگی کے پہلے انسان تھے جو کبھی مجھ سے ناراض نہیں ہوئے، مجھ ایسے بد مزاج انسان ہوں کہ میں نے اپنے زندگی میں کوئی ایسا انسان، ایسا رشتہ نہیں دیکھا جو مجھ سے ناراض نہیں ہوا ہو۔ بس آپ ایک ہی تھے جو مجھ سے ناراض نہیں ہوئے۔مجھے یقین نہیں ہوتا کہ اُن چھ سالوں کے سفر میں کبھی کوئی تلخی کیوں نہیں آیا۔ شاید! آپ کی مخلصی کی وجہ سے آپ نے کبھی موقع ہی نہیں دیا۔ آپ کو پتہ ہے؟ ایک بار صابر جان میرے خواب میں آیا تھا۔ ہم نے بہت ساری باتیں کیں، میں نے آپ کے بارے میں پوچھا کہ”حمید جان کیسا ہے ؟ انور جان کیسا ہے؟ اُنھیں ساتھ کیوں نہیں لائے۔” کہنے لگا ”ان کا موڈ نہیں تھا”
پھر اچانک کسی نے جگایا میں کانپنے لگا۔ مجھے ایسے لگا آپ ناراض ہیں۔ یار! اگر کوئی بات ہیتو بتا دینا۔ مجھ میں اور سہنے کی سکت نہیں ہے،کبھی کبھی لگتا ہے آپ میری بے حسی سے نالاں ہیں۔ وہ تو ہے لیکن کیا کریں؟ اب مجھ میں ہمت نہیں ہے، میں بار بار آپ سے کہہ رہا ہوں کہ میں بے ترتیب ہوں۔ آپ کو پتہ ہے، میرے اور آپ کے درمیان کبھی یہ نہیں تھا کہ اُستاد میں ہوں یا آپ ہیں،دیکھنے میں تو سینئر تھا لیکن آپ تو چھپے رُستم نکلے۔
آج مجھے سمجھ میں آیا کہ استاد آپ تھے۔آپ کے بعد کوئی چیز اپنی جگہ نہیں رہا۔ بس اب کیا کریں یار معاف کرنا۔ یار! آپ کو میں نے ڈسٹرب کیا، میں ویسے بے چین تھا، میری طرف سے صابرجان اور انور جان کو سلام دینا۔
آپ کا گناہ گار
ساجد بلوچ
٭٭٭