میانمار کی سرحد سے متصل شمال مشرقی بھارتی ریاست منی پور میں باغیوں کے ایک مبینہ حملے میں کرنل سمیت پانچ فوجی اور دو شہری ہلاک ہوگئے۔
خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق ریاستی دارالحکومت امفل کے پولیس افسر نے بتایا کہ بھارتی پیرا ملٹری فورسز ضلع چوراچندپور کے قریب گشت پر مامور تھیں کہ اس دوران باغیوں نے ان پر حملہ کردیا۔
حملے میں بھارتی پیراملٹری فورس کی آسام رائفلز کے کرنل کے ساتھ ساتھ ان کی بیوی اور بیٹا بھی مارے گئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ باغیوں نے خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کی جس سے تمام ساتوں افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
حملے کے بعد فوری طور پر کمک بھیج کر واقعے میں ملوث باغیوں کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ عین ممکن ہے کہ یہ حملہ منی پور کے مقامی باغی گروپ پیپلز لبریشن آرمی نے کیا ہو کیونکہ یہ گروپ بھارتی حکومت کے خلاف ایک عرصے سے لڑ رہا ہے۔
پولیس کے دعوؤں کے برعکس اس وقت کسی بھی باغی گروپ نے حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔
بھارتی خبر رساں ادارے ہندوستان ٹائمز کے مطابق یہ حملہ منی پور میں صبح 10 سے 11 بجے کے درمیان کیا گیا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ سیہکن گاؤں کے قریب پیش آیا جہاں بھاری ہتھیاروں سے مسلح دہشت گردوں نے آئی ای ڈی دھماکے کے بعد فوجی قافلے پر فائرنگ کردی۔
منی پور پولیس کے ذرائع کے مطابق یہ حملہ علاقے میں متحرک چار باغی گروپوں نے مل کر کیا ہے اور فائرنگ سے قبل دھماکا بھی ہوا تھا۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے آسام رائفلز کے قافلے پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میں آج شہید ہونے والے فوجیوں اور ان کے اہلخانہ کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور ان کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔
کانگریس کے رہنما راہُل گاندھی نے اس حملے پر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت ایک مربتہ پھر ملک کے تحفظ میں ناکام ہو گئی۔