طالبان نے بھارت کا رخ کیا تو فضائی حملے کیلئے تیار ہیں، یوپی وزیر اعلیٰ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بھارتی ریاست یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا کہنا ہے کہ افغانستان اور پاکستان طالبان کی وجہ سے پریشان ہیں تاہم بھارت کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر دیکھ بھی نہیں سکتا۔ ان کے مطابق طالبان کی حمایت بھارت کی مخالفت کے مترادف ہے۔

بھارتی ریاست اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات جیسے جیسے قریب تر ہو رہے ہیں ویسے ویسے بھارت میں کشمیر، پاکستان اور طالبان کے حوالے سے سیاست گرم ہوتی جا رہی ہے۔ ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کے رہنماؤں کی جانب سے ہر روز اس حوالے سے کوئی نہ کوئی متنازعہ بیان ضرور آتا ہے۔

یکم نومبر پیر کے روز سخت ہندو نظریات کے حامل ریاستی وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ طالبان کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان پریشانی محسوس کر رہے ہیں تاہم وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک اتنا مضبوط ہو گیا ہے کہ بھارت کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا۔

اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بی جے پی نے ریاست میں ایک سماجی رابطے کی مہم شروع کر رکھی ہے اور وزیر اعلی اسی سے متعلق ایک اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے سیاسی حریفوں پر بھی نکتہ چینی کی۔

وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کا کہنا تھا،”آج وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک کافی طاقتور ہو چکا ہے اور کوئی بھی ملک بھارت کی طرف آنکھ اٹھانے کی جرات بھی نہیں کر سکتا ہے۔“ ان کا مزید کہنا تھا کہ آج پاکستان اور افغانستان جیسے ملک طالبان کی وجہ سے پریشانی محسوس کر رہے ہیں۔ لیکن طالبان کو یہ بات معلوم ہے کہ اگر انہوں نے بھارت کی جانب قدم بڑھایا تو ان کے لیے فضائی حملہ تیار ہے۔

پیر کے روز ہی یوگی آدتیہ ناتھ نے ریاست میں اپنے سب سے بڑے سیاسی حریف اور سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو پر یہ کہہ کر نکتہ چینی کی کہ انہوں نے بانی پاکستان محمد علی جناح کا موازنہ بھارتی رہنما سردار پٹیل سے کیا، جو ایک ”شرمناک“ بات ہے اور طالبانی ذہنیت کی عکاس ہے۔

ان کا کہنا تھا، ”یہ طالبانی ذہنیت ہے، جو تقسیم پر یقین رکھتی ہے۔ سردار پٹیل نے تو ملک کو متحد کیا تھا۔ فی الحال، وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں، ایک متحد اور اعلی ترین بھارت کے حصول کے لیے کام جاری ہے۔“ بھارتی میڈیا اور حکام بانی پاکستان محمد علی جناح ایک ولن کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔

حالانکہ اکھیلیش یادو نے موازنہ کرنے کے بجائے بات کچھ اس طرح کی تھی، ”سردار پٹیل، گاندھی جی، جواہر لعل نہرو اور محمد علی جناح جیسی شخصیات نے ایک ہی ادارے سے تعلیم حاصل کی تھی اور بیرسٹر بنے تھے۔ انہوں نے بھارت کی آزادی کے لیے جد وجہد کی اور کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔“

ایک جلسے سے خطاب کے دوران بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا، ”سردار پٹیل نے آر ایس ایس کے نظریات پر پابندی بھی عائد کی تھی۔ آج اسی نظریے کے لوگ، جو متحدہ کرنے کا دعوی کر رہے ہیں، ملک کو مذہب اور ذات پات کے نام تر تقسیم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔”

یو گی کی حکومت نے تبدیلی مذہب کے نام پر کئی سرکردہ مذہبی مسلم اسکالر کو گرفتار کر رکھا ہے جبکہ حال ہی میں ریاست کے کئی مقامات پر گوشت کی خرید و فروخت پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔

Share This Article
Leave a Comment