گوادر کو حق دو تحریک کے زیر اہتمام تحریک کے قائد مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے ملاپازل پڑ میں ایک پر ہجوم عوامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گوادر کو حق دو تحریک کے مطالبات کی عدم منظوری کی صورت 15 نومبر کو وائی چار راہ پر غیر معینہ مدت کے لیے دھرنے کا اعلان کیا۔
مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ وہ گوادر کے شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے 10 ہزار لوگوں کے ساتھ دھرنا دیں گے انھوں نے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ دھرنے کے لیے ایک مہینے کا راشن، ایندھن اور بستر کی تیاری کریں جب تک ہمارے حقوق نہیں دیے جائیں گے ہم دھرنے سے نہیں اٹھیں گے۔
جماعت اسلامی بلوچستان کے جنرل سیکریٹری مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا 19 اگست سے گوادر کو حق دو تحریک جاری ہے جس کے تحت 30 ستمبر کو جیمڑی شھیدانی چار راہ پر طاقت کا مظاہرہ کرکے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا گیا۔ ہم نے اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد کے لیے حکام کو 30 دنوں کی مہلت دی لیکن ان 30 دنوں میں ہمارے صرف ایک مطالبے پر عمل کرکے گوادر یونیورسٹی میں وائس چانسلر کا تقرر کیا گیا۔
انھوں نے کہا گوادر یونیورسٹی میں ایک قابل اور باصلاحیت شخص کو وائس چانسلر تعینات کیا گیا ہے جس کو خوش آئند قرار دیتے ہیں لیکن ہمارے دیگر مطالبات پر تاحال عمل نہیں کیا گیا ہے۔
انھوں نے کیا ہم نے حکام کو 31 اکتوبر کی ڈیڈ لائن دی تھی اور ہم نے کہا تھا کہ اس کے بعد ہم دھرنا دیں گے لیکن اس دوران جام حکومت کا خاتمہ ہوچکا ہے اور قدوس بزنجو کی سربراہی میں ایک نئی کابینہ آئی ہے اس لیے ہم نے مشورے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ قدوس بزنجو کی حکومت کو مزید دو ہفتے کا وقت دیا جائے گا تاکہ ہمارے مطالبات پر عملدرآمد کیا جاسکے اور حکومت یہ عذر پیش نہ کرسکے کہ نئی کابینہ کو مہلت نہیں دی گئی۔
انھوں نے انکشاف کیا کہ ان کے بینک کھاتے منجمند کیے گئے ہیں تاہم انھوں نے کہا کہ وہ اپنے بینک کھاتوں کی بحالی کا مطالبہ نہیں کریں گے ان میں جو بھی پیسے ہیں انھیں کرنل جریل لے لیں۔
گوادر کو حق دو تحریک کے مطالبات
1۔سمندر کو ٹرالرز مافیا سے پاک کیا جائے، ٹرالز مافیا کی سرپرستی بند کی جائے، ٹرالز مافیا کے خلاف سخت قانون سازی کی جائے، فشریز آرڈیننس 1986 پر عمل درآمد کیا جائے۔
2۔ ماہی گیروں کو آزادی کے ساتھ سمندر جانے دیا جائے۔انٹری ٹوکن اور وی آئی پیز کے نام پر ماہی گیروں کی تذلیل بند کی جائے۔
3۔ سیکورٹی کے نام پر عوام کی تذلیل بند کی جائے۔ غیر ضروری چیک پوسٹوں کا خاتمہ کیا جائے۔ جیمڑی سے لے کر کراچی تک کوسٹل ہائی وے اور گوادر سے شال تک شاہراہ پر قائم غیر ضروری چیک پوسٹس ختم کیے جاہیں۔
4۔ گوادر میں موجود تمام شراب کے اسٹوروں کو مکمل بند کیا جائے۔ کرسٹل شیشہ و غیرہ کے ناپاک اڈوں کا خاتمہ کیا جائے۔
5۔ ایران سے بارڈر ٹریڈ اور اشیاء خوردو نوش کی نقل و حمل پر عائد پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں، مکران ڈویژن کے لیے سرحدی تجارت کرنے کا آزادانہ ماحول فراہم کیا جائے، ٹوکن سسٹم کا خاتمہ اور ایف سی کے عمل دخل کا خاتمہ کیا جائے۔
6۔گوادر میں مکمل یونیورسٹی قائم کی جائے، یونیورسٹی وائس چانسلر کی فوری طور پر تقرری کی جائے۔
7۔محکمہ تعلیم کے نان ٹیچنگ اسٹاف کی آسامیوں کے آرڈر فوری طور پر کیے جائیں۔
8۔ ضلع گوادر میں جعلی ادویات اور 2 نمبر ادویات کے کاروبار پر پابندی عائد کی جائے جعلی ادویات کے کاروبار کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
9۔ ضلع گوادر کو آفت زدہ قرار دیا جائے اور شہریوں کے یوٹیلٹی بلز کے بقایا جات معاف کیے جائیں ضلع گوادر کے مقامی صارفین کو ماہانہ 300 رہائشی یونٹ کی سبسڈی دی جائے۔
10۔ کوسٹ گارڈ، کسٹم اور ایم ایس نے جیمڑی سے لے کر ھورماڑا تک جتنے غریبوں کی گاڑیاں، کشتیاں اور اسپیڈ بوٹس پکڑے ہیں فوری طور پر ان کو واپس کیا جائے۔
11۔دربیلہ، چپ ریکانی، نوگڈو، پلیری، پشوکان، سنٹسر اور جیمڑی کے علاقوں کے پانی بحران کا خاتمہ کیا جائے۔ان علاقوں کو ہنگامی بنیادوں پر فوری طور پر پانی فراہم کیا جائے۔
12۔چائنا اورسیز ہولڈنگ کمپنی میں گوادر اور بلوچستان کے دیگر علاقوں کے لوگوں کو باہر والوں کی نسبت کم تنخواہ اور مراعات دی جاتی ہیں، مقامی لوگوں کو فوقیت دی جائے۔
13۔دربیلہ متاثرین کمیٹی کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی ضلعی انتظامیہ پابندی کرئے۔
14۔ ایکسپریس وے متاثرین کو مناسب معاوضہ دیا جائے، جن متاثرین کے نام درج نہیں ہیں، شفاف سروے نہیں کیا گیا ہے، ان کے نام فوری طور پر اندراج کرکے انھیں معاوضہ دیا جائے۔
15۔گوادر کے ماہی گیروں کا سمندری طوفان، کشتی اور ٹرالر وغیرہ سے پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔
16۔ جبری لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے، گوادر کے رہائشی قاسم ولد ھاشم کو خصوصا فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔
17۔ حق دو تحریک کے سربراہ ہدایت الرحمن اور نوجوانوں پر قائم تینوں مقدمات واپس لیے جائیں اور فورتھ شیڈول کا لیٹر بھی واپس لیا جائے۔