ہوشاپ واقعہ میں ملوث ایف سی اہلکاروں کیخلاف تھانہ انسداد دہشت گردی میں مقدمہ درج کردیا گیا۔
ہوشاپ واقعہ کے حوالے سے ایڈوکیٹ کامران مرتضی کے پٹیشن پر بلوچستان ہائی کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے ایف سی اہلکاروں کے خلاف تھانہ انسداد دہشت گردی کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔اس حکم پر فوری عملدرآمد کرتے ہوئے منگل کے روز بچوں کے دادا محراب خان ولد محمد کی مدعیت میں ایف سی اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔
ایف آئی آر میں ایف سی کے خلاف قتل اور اقدام قتل کے مقدمات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
ایف آئی آر میں درج محراب خان کے بیان کے مطابق 10 اکتوبر 2021 کی صبح ساڑھے دس بجے ان کے تین بچے ایک لڑکی شراتون عمر چھ سال، دو لڑکے اللہ بخش ولد عبدالواحد عمر 8 سال اور لڑکا مسکان ولد وزیر عمر 6 سال گھر کے باہر واقع پرکوٹگ ھوشاپ کھیل رہے تھے کہ ایک مارٹر گولہ ایف سی بلوچستان کی جانب سے آیا اور پھٹ گیا جس کی وجہ سے ان کی لڑکی شراتون اور لڑکا اللہ بخش ولد عبدالواحد موقع پر فوت ہوگئے جبکہ مسکان زخمی کو ٹیچنگ ہسپتال تربت میں ابتدائی علاج کے لیے لایا گیا اور بعد میں کراچی لیاقت نیشنل ہسپتال لے جایا گیا لہذا انھوں نے ایف سی اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔
ایف آئی آر کے دیگر مندرجات کے مطابق 18 اکتوبر کو دن 12 بجے عدالت عالیہ نے ایڈوکیٹ کامران مرتضی کی درخواست پر سی پی نمبر 2021-1513 کے تحت نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس بلوچستان، سیکریٹری ھوم اور ڈی سی کیچ کو طلب کیا دوران سماعت مقدمہ نمبر 031/2021 لیویز تھانہ ھوشاپ ضلع کیچ کو بحکم عدالت عالیہ منسوخ کرتے ہوئے حکم صادر فرمایا کہ نئی ایف آئی آر تھانہ سی ٹی ڈی میں درج کی جائے جو مدعی مقدمہ کے بیان کے مطابق ہو اور مقدمے کی تفشیش کرائم برانچ کرئے۔
مقدمہ درج کرنے کے بعد کرائم برانچ کو واقعے کی تحقیق کی ذمہ داری سپرد کی گئی ہے۔