ڈیرہ اللہ یار: پولیس تشدد سے ہلاک نوجوان کی لاش کیساتھ لواحقین کا احتجاج

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

ڈیرہ اللہ یار میں بگٹی برادری کے افراد کا نوجوان کی لاش تھانے کے سامنے رکھ کر احتجاج کیا گیا۔

متوفی کی والدہ کی مدوعیت میں سب انسپکٹر سمیت پانچ افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر دیا گیا۔

گزشتہ شب ٹیمپل شاخ کے رہائشی بگٹی برادری کے مرد و خواتین نے 30 سالہ نوجوان اسلام الدین بگٹی کی لاش پولیس تھانہ ڈیرہ اللہ یار کے سامنے رکھ کر دھرنا دیا جسکے باعث عدالت روڈ کی ٹریفک بند ہوگئی۔

مظاہرین نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سب انسپکٹر محمد پناہ لاشاری، حوالدار نصیر بگٹی، جوانسال اور اسلم نے متوفی اسلام الدین کی بیوی ریحانہ کے ساتھ مل کر ہمارے نوجوان کو نشہ آور چیز کھلا کر قتل کردیا ہے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

کئی گھنٹوں کے احتجاجی دھرنے کے بعد پولیس تھانہ ڈیرہ اللہ یار میں متوفی اسلام الدین بگٹی کی والدہ نور خاتون کی مدوعیت میں سب انسپکٹر محمد پناہ لاشاری، حولدار نصیر بگٹی، جوانسال، اسلم اور متوفی کی بیواہ ریحانہ کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔

مورد الزام آنے والے سب انسپکٹر محمد پناہ لاشاری نے تمام تر الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان اسلام الدین بگٹی کو اسکے بھائی میر حاجی و دیگر نے دو روز قبل گاؤں کے گھر میں یرغمال بنا کر دباو ڈالا کہ وہ اپنی بیوی ریحانہ کو سیاہ کاری کا الزام دیکر طلاق دے تاہم انکار پر نوجوان کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

تشدد کے باعث گہری اندرونی اور بیرونی چوٹیں لگنے سے نوجوان کومہ میں چلا گیا بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے انتقال کر گیا اب مجھ پر قتل کا جھوٹا الزام عائد کر رہے ہیں۔

متوفی کے بھائی انتہا درجے کے لالچی اور خود غرض ہیں قبل ازیں بھی انہوں سیاہ کاری کے الزام میں ایک شخص سے بھاری جرمانہ وصول کر چکے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment