پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین بدرالدین کاکڑ نے ملک بھر میں سب سے زیادہ بلوچستان میں گندم اجرائی قیمت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی ناقص پالیسی اور درکار گندم کوٹہ کی عدم موجودگی کے باعث نہ صرف بلوچستان میں ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں سو کلو آٹے کی قیمت 7سو روپے زیادہ ہے بلکہ آنے والے دنوں میں اس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ پنجاب، سندھ اور خیبر پشتونخوا میں وزیراعظم عمران خان کے اعلان کے مطابق فی من گندم کی اجرائی قیمت 1950روپے ہیں بلکہ وہاں موثر پالیسی بھی موجود ہے اس وقت سب سے زیادہ پسماندہ اور متاثر صوبہ بلوچستان ہے جہاں گندم کی فی بوری اجرائی قیمت 5ہزار 5سو 50روپے ہے جس کی وجہ سے گندم کی فی بوری قیمت 7ہزار تک پہنچنے کو ہے جو ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں فی بوری 7سو روپے زائد ہے۔
انہوں نے کہا کہ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ بلوچستان میں گندم کے ذخائر سب سے کم ہیں حالانکہ صوبے کے پاس عوام کے 6مہینوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے گندم کوٹہ موجود ہونا چاہیے لیکن یہاں ایسا کچھ بھی نہیں۔ صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ بروقت وفاقی حکومت سے درکار گندم کا کوٹہ خریدیں بصورت دیگر گندم اور آٹے کی فی کلو بوری میں مزید اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان ملک کا سب سے پسماندہ اور غریب صوبہ ہے تودوسری جانب مہنگائی نے عوام کو زندہ درگور کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹا جیسی بنیادی ضرورت کی قیمت میں ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں اضافہ تشویشناک ہے بلکہ ہم اسے فلور مل انڈسٹری کی تباہی کا سامان بھی سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ کوٹہ میں اوپن مارکیٹ میں گندم کی فی کلو قیمت تقریباً 70روپے تک پہنچ چکی ہے اور اس کے 80روپے تک پہنچنے کے امکانات ہیں جو غریب صوبے کے غریب عوام کے ساتھ ظلم وزیادتی کے سوا کچھ نہیں۔ مگر اس تمام تر صورتحال پر صوبائی حکومت اور محکمہ خوراک کا کردار خاموش تماشائی سے زائد نہیں ہے۔ اگر یہی حالت رہی ہے تو بلوچستان میں گندم اورآٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے جو مایوس کن ہے۔
انہوں نے کہاکہ حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچستان کی عوام کو ریلیف اور سبسڈی فراہم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے تاکہ عوام کو سستے داموں آٹا اور گندم دستیاب ہو اور فلور ملز انڈسٹری تباہ نہ ہو۔