بلوچ ری پبلکن آرمی کے ترجمان بیبگر بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک بیان میں گوادر میں با نی پاکستان محمد علی جناح کے مجسمے کوبم دھماکے سے اڑانے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سرمچاروں نے آج صبح گوادر میرین ڈرائیو (پدی زر) پر نصب انگریز سامراج کے ایجنٹ محمد علی جناح کے مجسمہ کو بارودی مواد لگا کر تباہ کردیاہے۔
بیبگر بلوچ نے کہا کہ محمد علی جناح نے 27 مارچ 1948 کو جس دھوکہ اور فریب سے بلوچ وطن پر فوج کشی کروا کر اسکی آزاد حیثیت ختم کردی ہے، اسکی ان چال باز اور مکار سیاست کی وجہ سے بلوچ قوم محمد علی جناح کی زندگی کو نفرت اور حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ محمد علی جناح کو خان بلوچ نے انگریز سامراج کے سامنے آزاد بلوچ ریاست کی جغرافیہ حیثیت کا مقدمہ لڑنے کیلئے اپنا وکیل مقرر کردیا تھا لیکن اس مکار اور دھوکہ باز انسان نے ایک سال قبل انگریز سامراج کی جانب سے قائم کردہ ملک پاکستان کی فوج کے زریعے بلوچ وطن پر فوج کشی کرکے اس کی آزاد حیثیت کو ختم کردیا اور بزور طاقت اسے غیر فطری نومولود پاکستان میں شامل کردیا اس وقت سے لیکر آج تک بلوچستان میں محمد علی جناح کو ایک دھوکہ باز اور مکار حکمران کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست اپنی جھوٹے تعلیمی نصاب میں ہمارے مستقبل کے سامنے محمد علی جناح کو ایک ہیرو کے طور پر پیش کرنے کی جو ناکام کوشش کررہی ہے بلوچ فرزند ایسے مکارانہ نصاب اور محمد علی کی اصلیت سے بخوبی واقف ہیں کیونکہ یہ نسل ایک پر آشوب دور میں پرورش پا رہی ہے جہاں بیرونی دشمن نے اس کے وطن کو اصل باسیوں کیلئے نوگو ایریا بنادیا ہے وہ غلامی کے اس احساس سے بخوبی آگاہ ہیں جہاں گوادر کے باسی ایک لیٹر پانی کیلئے آئے روز احتجاج پر ہے دوسری جانب نام نہاد سی پیک اور سرمایہ داری کے نام پر بلوچ شناخت کے خلاف ایک تاریخی کھیل کھیلا جارہا ہے جس کے خلاف بلوچ مزاحمت ایک سیسہ پلاہی دیوار ثابت ہوگی۔
واضع رہے کہ محمدعلی جناح کا یہ مجسمہ رواں سال جون کے مہینے میں گوادر کے وسطی علاقے میں پدی زر (مغربی ساحل) روڈ کے کنارے نصب کیا گیا تھا۔اس مجسمے کا شمار محمد علی جناح کے قد آور مجسموں میں ہوتا تھا۔ جس کو بنانے میں 30 لاکھ روپے سے زائد رقم خرچ کی گئی تھی۔ اسے نصب کرنے کے بعد پاکستانی فورسز باقاعدگی سے اس کی نگرانی کرتے تھے۔