نوشکی و خاران میں جھڑپیں،6 سرمچاروں سمیت متعدد فوجی ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

نوشکی اور خاران کے پہاڑی علاقوں میں بلوچ عسکرہت پسندوں اور فورسز مابین جھڑپوں میں 6سرمچاروں سمیت متعدد فوجیوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

مقامی میڈیا ”ریڈیو زرمبش“ کے مطابق پاکستانی فوج نے مخبروں کی مدد سے خاران اور نوشکی کے درمیان پہاڑی علاقوں میں فوج کشی کی جہاں بلوچ سرمچاروں نے سخت مزاحمت کیا۔جس سے درجنوں فوجی اہلکار ہلاک اور بی ایل اے کے 6 سرمچار شہید ہوگئے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ ایف سی نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر خاران میں بلوچ سرمچاروں کے ٹھکانے پر حملہ کیا جس میں 6سرمچار مارے گئے۔

آئی ایس پی آر نے اس حوالے سے تصاویر جاری کی ہیں جن میں سرمچاروں سے قبضے میں لیے گئے ہتھیار،مواصلاتی آلات، دوائیاں، ان کے راشن اور ان کی لاشیں نظر آرہی ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اس حملے میں دو کمانڈر گل میر عرف پلین اور کلیم اللہ بولانی بھی جان سے گئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی فوج کے گھیراؤ میں آنے کے بعد سرمچاروں نے پاکستانی فوج پر فائرنگ شروع کی اور دو طرفہ جھڑپ میں 6 سرمچار ہلاک ہوگئے۔

بلوچ آزاد پسند مسلح تنظیموں کی طرف سے تاحال اس واقعے کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

ایک غیر مصدقہ ذرائع کے مطابق اس حملے میں شہید ہونے والے سرمچاروں کا تعلق بلوچ لبریشن آرمی سے ہے۔ ان میں شاہ میر عرف گل میر، کلیم عرف بولانی، مظہر عرف کامریڈ اور کمال عرف کے ڈی کے نام سامنے آرہے ہیں۔

ذرائع نے بتا ہے کہ گذشتہ روز فوج نے خاران اور نوشکی سے متصل پہاڑی سلسلوں میں فوج کشی کا آغاز کیا تھا۔

بڈو کھور کے نزدیک سوماری سینکری کورکی اور سیاہ لوپ سمیت مختلف مقامات پر فوج کو بلوچ سرمچاروں کے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جس میں فوج کے درجنوں اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے۔فوج کشی میں فوج کو فضائی مدد سمیت علاقائی ڈیتھ اسکواڈ اور تربیت یافتہ مخبروں کی مدد حاصل تھی۔

Share This Article
Leave a Comment