گوادر تحریک کے تحت کے تحصیل اورماڑہ میں بھی کارنر جلسہ کیا گیا۔
اس جلسے میں تحریک کے قائد مولانا ہدایت الرحمن بلوچ اور دیگر نے شرکت کی۔
یہ کارنر جلسے ضلع گوادر کے مرکز گوادر میں 30 ستمبر کو ہونے والے ایک بڑے جلسے کی تیاری کے لیے گذشتہ کئی دنوں سے ضلع کے مختلف علاقے میں منعقد کیے جارہے ہیں۔
مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے اورماڑہ میں کارنر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 30 ستمبر کو گوادر کے مسائل اور ریاستی مظالم کے خلاف ایک تاریخی جلسہ ہوگا جو نہ صرف ضلع گوادر میں بلکہ بلوچستان میں ایک مثال ہوگا جس میں ہم اپنے بنیادی حقوق کے لیے حکمرانوں کو الٹی میٹم دیں گے۔ اگر انھوں نے ہماری بات نہیں سنی تو ضلع بھر میں اورماڑہ سے لے کر جیونی تک کوسٹل ہائی وے کو غیر معینہ کے لیے بند کریں گے۔
انہوں نے کہا ٹرالنگ کے خاتمے اور دیگر مسائل کے خلاف ہم اپنا یہ دھرنا جاری رکھیں گے۔اگر اس کے بعد کسی نے ایک بھی ماہی گیر کو بے عزت کیا تو اس دن ہم پر گھر میں رہنا حرام ہوگا ہم سب سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں گے۔پاکستانی فورسز گوادر کے عوام کی تذلیل کرنا چھوڑ دیں۔
یہ جلسے پاکستانی فورسز کی طرف سے مقامی ماہی گیروں کو تنگ کرنے،جبری گمشدگیوں، سمندری ٹرالنگ اور شہری سہولیات کی عدم فراہمی کے خلاف منعقد کیے جا رہے ہیں۔ کل پکیر میتگ گوادر میں چینی اسکول کے سامنے کارنر جلسہ ہوگا۔
اورماڑہ میں خطاب کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ جن لوگوں نے عوام سے ووٹ لے کر گوادر کو پانی بجلی اور دیگر سہولیات دینے کا وعدہ کیا تھا وہ کوئٹہ اور اسلام آباد پہنچ کر عوام کو بھول چکے ہیں۔
اورماڑہ کارنر جلسے سے جماعت اسلامی گوادر کے رہنما مولانا لیاقت نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا ہماری روز تذلیل کی جاتی ہے جو اب ہمیں برداشت نہیں اور ہم اپنی آواز کو اسلام آباد کے بہرے حکمرانوں کی کانوں تک پہنچائیں گے۔
انہوں نے کہا ہم ساحل اور وسائل سے مالا مال سرزمین کے مالک ہیں ہمیں ہمارے بنیادی حقوق دیئے جائیں۔جیونی سے لے کر اورماڑہ کے کسی ایک کونے میں رہنے والے شخص کو بھی یکساں حقوق دیے جائیں۔
مقررین نے ٹرالنگ کے خاتمے، تمام تحصیل کے مراکز میں ہسپتال کے قیام اور دیگر شہری سہولیات کا مطالبہ کیا۔
گذشتہ روز اس سلسلے کا کارنر جلسہ گوادر میں جی ڈی اے پارک میں ہوا تھا جس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمن نے کہاتھا کہ ان کے کردار پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں اگر فوجی اسٹبلشمنٹ یہ ثابت کردیں تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے دامن کو داغدار کرنے کے لیے ہمیں بھی مراعات کی لالچ دی گئی، ایکٹر، سیٹ اور دیگر مراعات کی آفر کی گئی کہ خاموش رہیں اور مراعات لیں۔
انہوں نے کہا کہ میں ایک سیاسی کارکن ہوں اور گذشتہ بیس سالوں میں ہم نے اس راستے میں دو چیزوں کا سامنا کیا خوف اور لالچ کا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں پاکستانی فوج کی طرف سے 12 مرتبہ سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس سفر کی صعوبتوں کا علم ہے۔ اسے روزانہ ان نوجوانوں کی یاد آتی ہے جو گوادر اور بلوچستان کے دیگر قبرستان میں دفن ہیں جنہیں حقوق کے مطالبے پر اس انجام تک پہنچایا گیا۔