بلوچستان کے ساحلی شہر گوادرمیں ایک پر ہجوم کارنر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنمامولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے حکام کو انتباہ کیا کہ اگر انھوں نے گوادر سے جبری گمشدہ چار نوجوانوں کو رہا نہ کیا تو کوسٹل ہائی وے پر دھرنا دیں گے۔
عوامی آگاہی مہم کے سلسلے میں کل نماز عصر کے بعد مجاہد وارڈ میں جامع مسجد مدنی کے سامنے کارنر جلسہ ہوگا۔
انھوں نے کہا گوادر کے شہریوں پر رو ا رکھے جانے والے ریاستی مظالم کے خلاف 30 ستمبر کو گوادر میں ایک عظیم الشان جلسے کی تیاری شروع ہوچکی ہے جس کے کوریج کے لیے تمام میڈیا ہاؤسز کو دعوت دی گئی ہے۔
جماعت اسلامی بلوچستان کے جنرل سکریٹری مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے گوادربلدیہ کے سامنے ایک پر ہجوم کارنر میٹنگ سے خطاب کیا۔
انھوں نے کہا آج کے اس جلسے کے توسط سے میں حکمرانوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ گوادر کے عوام کو ظلم و زیادتی منظور نہیں۔
”گوادر کے عوام نے سلطنت آف عمان کی حکومت سے علیحدگی اس لیے اختیار کی تھی کہ انھیں ان کے بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں گی جس میں پانی، بجلی، سیوریج، صحت، تعلیم اور ہمارے بچوں کو روزگار ملے گا اور لیکن 70 سال گزر گئے ہمارے حالات میں کوئی فرق نہیں آیا۔“
انھوں نے کہا اگر ہمارے مطالبات کے بدلے میں قدم قدم پر ہمارے ماہی گیروں کی تذلیل ہمیں منظور نہیں۔ ان کو سمندر میں آزادی سے جانیکی اجازت نہیں دوگے یہ ہمیں منظور نہیں آج کے بعد ایک بھی ماہی گیر کو گالی دیا گیا یا انھیں تنگ کیا گیا تو پورے گوادر کے عوام احتجاج کریں گے۔ اس سیلابی ریلے کو کوئی بھی نہیں روک سکے گا۔
انھوں نے کہا گوادر کے جو 4 نوجوانوں کو حالیہ دنوں سیکورٹی فورسز نے جبری گمشدہ کیا ہے انھیں فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔ اگر وہ مجرم ہیں تو انھیں آئین اور قانون کے تحت عدالتوں میں پیش کیا جائے اگر مطالبہ منظور نہیں کیا گیا تو کوسٹل ہائی وے کو بند کر دیں گے۔