امریکی تجزیہ نگار انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ کے پرنسپل ریسرچر مائیکل رابنز نے اپنے تجزیہ میں لکھا ہے کہ امریکہ مستقبل قریب میں بلوچستان کے مسلئے کو کویت کے طرز پر حل کرسکتا ہے۔
انہوں نیلکھا کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اس وقت امریکہ کی افغانستان میں شکست کی جشن منا رہا ہے اور طالبان کی مدد و کمک میں اونچی اڑان بھر رہا ہے۔
مائیکل مزید لکھتے ہیں کہ یہ کوئی حیرانگی کی بات نہیں ہے کہ پاکستان سرد جنگ کے دوران امریکہ کا اتحادی رہا ہے اور پاکستان اور امریکہ کے درمیان اختلافات کی آنکھ مچولی سرد جنگ سے جاری رہی ہے لیکن اتنے کشیدہ کبھی بھی نہیں ہوئے جتنے اس وقت ہیں۔ پاکستان کے دونوں وزرائے اعظم عمران خان اور نوازشریف نے پاکستان کی خودمختیاری چین کو فروخت کی ہے۔
امریکی انخلا کے بعد چین اپنے نئے مفادات کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور ابھی سے افواہیں ہیں کہ چین بگرام ہوائی اڈے کی آپریشن کو سنبھال لے گا اور افغانستان کے معدنی وسائل کو اپنے کنٹرول میں لے گا جو کہ امریکہ کی سٹریٹجک مفادات کے لئے خطرہ ہیں۔
تجزیہ کار کے مطابق جب امریکہ میں چین کے حوالے سے خدشات مزید بڑھیں گے تو امریکہ بلوچستان کے مسلئے کو کویت کے طرز پر حل کرسکتا ہے کیونکہ بلوچ قوم کا اپنا ایک الگ شناخت اور پہچان ہے اور 1948 سے پہلے بلوچستان ایک آزاد ریاست تھا جسے برطانیہ نے تقسیم کیا اسکا مغربی حصہ ایران کو دیا گیا جس سے بلوچستان کمزور ہوگیا اور دوسرے حصے پر پاکستان قابض ہوگیا۔ بلوچستان میں کئی دہائیوں سے پاکستان کے خلاف شورش چل رہا ہے۔
مائیکل لکھتے ہیں کہ 1970 میں بلوچستان میں پاکستان کے خلاف گوریلہ جنگ لڑی گئی لیکن پاکستان ایران کی مدد سے اسے دبانے میں کامیاب ہوئی۔