افغانستان کے صوبہ غور سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق دارالحکومت فیروز کوہ میں طالبان نے ایک خاتون پولیس اہلکار کو اس کے گھر میں گھس کر گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔
اس واقعے کے متعلق بانو نگار نامی خاتون کے رشتے داروں نے بی بی سی کو بتایا ہے جن کا دعویٰ ہے کہ وہ اس کے عینی شاہد ہیں۔
یہ قتل افغانستان میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے مبینہ مظالم کی اطلاعات کے درمیان ہوا ہے۔
بی بی سی نے طالبان حکام سے اس بارے میں بات کرنے کی کوشش کی تو ان کا کہنا تھا کہ ان کا اس قتل سے کوئی تعلق نہیں اور وہ اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اس واقعے کا علم ہے اور میں تصدیق کر سکتا ہوں کہ طالبان نے اس خاتون کو قتل نہیں کیا۔ ہماری تحقیقات جاری ہیں۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان نے پہلے ہی سابق حکومت کے لیے کام کرنے والے افراد کو معافی دینے کا اعلان کر دیا ہے اور ممکن ہے کہ نگار کا قتل ’ذاتی دشمنی یا کسی دیگر وجہ سے ہوا ہو۔‘
اس واقعے کی تفصیلات ابھی تک واضح نہیں ہیں کیونکہ فیروزکوہ میں کچھ لوگوں کو اس بات کا خوف ہے کہ اگر انھوں نے اس بارے میں بات کی تو ان کے خلاف انتقامی کارروائی ہو سکتی ہے۔