جبری لاپتہ خالد نواب تگاپی کی بہن نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے بھائی کو بازیاب کیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ ان کے بھائی کو 16 فروری 2013 کی صبح ان کے گھر واقع خاران سے ایف سی اور آئی ایس آئی نے مشترکہ کارروائی کے ذریعے ان کے داماد، اور دو بھائیوں کو گرفتار کیا۔ ان کے بھائی مقبول نواب کو 7 مارچ 2013 کو ایک اور جبری لاپتہ کے ساتھ ماورائے عدالت قتل کرکے لاش منگھوپیر کراچی میں پھینک دی گئی۔
انھوں نے اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا 16 فروری 2013 بروز ہفتہ صبح 6 بجے ہمارے گھر واقع خاران شہر میں ایف سی اور آئی ایس آئی نے مقامی ڈیتھ اسکواڈ کے ساتھ تقریبا ستر کے قریب گاڑیوں نے دھاوا بول دیا۔ ایک گھر میں میری بوڑھی ماں اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ سو رہی تھی اور دوسرے کمرے میں میرے داماد اپنے بچوں کے ساتھ سو رہے تھے۔پاکستانی فوج نے بے دردی سے میرے دونوں بھائیوں کو زدو کوب کرکے ان کی آنکھوں پہ پٹی باندھ کر انھیں ہمارے داماد کے ساتھ گاڑی میں پھینک دیا اور اپنے ساتھ لے گئے۔ تقریبا تین گھنٹے بعد میرے داماد کو خاران شہر سے چالیس کلو میٹر دور گروک میدانی میں پھینک دیا گیا اور میرے دونون بھائیوں کو اپنے ساتھ لے کر جبری لاپتہ کردیا گیا۔ پھر 21 دن کے بعد 7 مارچ 2013 کو میرے چھوٹے بھائی شہید مقبول نواب کی مسخ لاش کو کراچی منگھوپیر میں ایک اور پنجگور کے جبری لاپتہ کے ساتھ پھینک دیا گیا۔ میرے بھائی دوسرے بھائی خالدنواب تاحال جبری لاپتہ ہیں۔
انھوں نے کہا یہ آٹھ سال کی لمبی مسافت ہم نے کس طرح طے کیے یہ صرف ہمارے دل اور ہمارے خاندان کو معلوم ہے۔ میری ضعیف بوڑھی ماں اپنی لخت جگر کی راہ تکتے تکتے اپنی آنکھوں کی بینائی کھو بیٹھی ہے ہر دن ہمارے خاندان کے لیے روز قیامت سے کم نہیں ہے ہم حکومت پاکستان سے عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اگر ہمارے بھائیوں کے اوپر کوئی الزام تھا تو اس ملک میں عدالتین ہیں۔ آپ عدالت میں پیش کرے عدالت جو سزا دے ہمیں منظور ہے لیکن اس طرح کسی انسان کو جبری لاپتہ کرنا اور پھر ٹارچر کرکے مسخ شدہ لاش پھینکنا یہ کون سا قانون اور انصاف ہے۔
”ہم اس پریس کانفرنس کی توسط حکومت پاکستان چیف جسٹس آف پاکستان، آرمی چیف آف پاکستان، حکومت بلوچستان اور دیگر اعلی حکام سے درمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ خدارا انسانیت کے ناطے میرے جبری لاپتہ بھائی خالدنواب تگاپی کو بازیاب کرکے میری ضعیف بوڑھی ماں کی بینائی واپس لوٹا دیں۔“