برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ڈومینک راب جمعرات کے روز دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ چکے ہیں جہاں دو دوطرفہ تعلقات کے علاوہ پاکستان میں اعلیٰ حکام کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر بھی بات چیت کریں گے۔
پاکستان کے دفترخارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈومینک راب کی شاہ محمود قریشی سے باضابطہ میٹنگ ہو گی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستان اور برطانیہ افغانستان میں ہونے والی تازہ ترین پیش رفت کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور گذشتہ ماہ کے دوران دونوں ممالک کے رہنماؤں کے دوران افغانستان کی صورتحال پر کئی مرتبہ بات ہو چکی ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ ماہ پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کو برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن کی جانب سے ٹیلی فون کال آئی تھی جس میں دونوں رہنماؤں نے افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
ڈومینک راب پاکستان کے دورے پر، افغانستان کے پڑوسی ممالک کے لیے 30 ملین پاؤنڈ امداد کا اعلان
برطانوی سیکریٹری خارجہ ڈومینک راب پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ افغانستان چھوڑنے کی کوشش کرنے والے برطانوی اور فرار ہونے والے دیگر افراد کے لیے محفوظ راستے کے حوالے سے بات چیت کی جا سکے۔
راب اپنے پاکستانی ہم منصب اور دیگر سینئر رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے۔
سیکریٹری خارجہ ایک ایسے وقت میں پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں جب برطانیہ نے افغانستان کے پڑوسی ممالک کے لیے 30 ملین پاؤنڈ کی امداد کا اعلان کیا ہے۔
اس فنڈنگ سے طالبان سے فرار ہو کر پڑوسی ممالک پہنچنے والے ہزاروں مہاجرین کو پناہ اوردیگر سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔
سیکریٹری خارجہ کی حیثیت سے پاکستان کے اپنے پہلے دورے میں راب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ ساتھ دیگر سینئر سویلین اور فوجی شخصیات سے ملاقات کریں گے۔
توقع کی جارہی ہے کہ ان ملاقاتوں میں طالبان سے پناہ گزینوں کے لیے محفوظ راستے کی اجازت حاصل کرنے اور افغانستان کو دہشت گرد گروہوں کا گڑھ بننے سے روکنے کے حوالے سے بات چیت کی جائے گی۔
سیکریٹری خارجہ کا کہنا ہے کہ پڑوسی ممالک کو دی جانے والی 30 ملین پاؤنڈ امداد میں سے 10 ملین پاؤنڈ فوری طور پر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو فراہم کیے جائیں گے تاکہ افغانستان کی سرحدوں پر سامان بھیجا جائے۔
جن ممالک میں پناہ گزینوں میں اضافے کا خدشہ ہیں، ان ممالک کو نئے آنے والوں کی پروسیسنگ اور ضروری خدمات اور سامان کی فراہمی کے لیے 20 ملین پونڈ دے جائیں گے۔
اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر نے اندازہ لگایا ہے کہ آنے والے مہینوں میں پانچ لاکھ سے زائد افراد افغانستان سے فرار ہو کر پاکستان، تاجکستان، ایران، ازبکستان اور ترکمانستان کی طرف پہنچیں گے۔
سیکرٹری خارجہ کا کہنا ہے: یہ بہت ضروری ہے کہ ہم افغانستان سے بھاگنے والوں کی مدد کریں اور وہاں کے بحران سے علاقائی استحکام کو کمزور نہ ہونے دیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ امداد برطانیہ کے انسانی ذمہ داریوں کو نبھانے کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔