بلوچستان کے ضلع بارکھان میں گذشتہ ہفتے مسلح افراد نے صمند خان مری کے گھر پر حملہ کرکے کمسن بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
جبکہ بندوق کی زور پر صمند خان مری کی بیوی کو اغوا کرلیا۔
لواحقین کے مطابق انتظامیہ نے ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کردیاہے۔
مقامی میڈیا ”ریڈیوزرمبش“ نے اپنے نامہ نگار کے حوالے سے بتایا ہے کہ متاثرہ خاندان کا کہناہے کہ 26 اگست کو تقریباً ایک بجے کے قریب لنڈیانی قبیلے کے 16 افراد ہمارے گھر میں زبردستی گھسے اور کمسن بچوں کو تشدد کے بعد صمند خان مری کی بیوی کو اغوا کرلیا۔
انہوں نے کہا کہ تین دن گزرنے کے بعد بھی مقامی انتظامیہ ایف آئی آر درج نہیں کر رہی۔
انھوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مسلح افرادوں نے ہمارے گھر میں گھس کر چادر اور دیوار کا تقدس پامال کی ہے، بچوں پر تشدد اور خاتون کو اغوا کرکے ہماری عزت نفس مجروح کیا گیا۔اس کے باوجود بھی مقامی انتظامیہ ایف آئی آر درج کرنے سے انکاری ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا مجرموں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرکے ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔
واضع رہے کہ بلوچستان بھر میں پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کی آپریشن کے نام پر فوجی بربریت کا سلسلہ جاری ہے جو لوگوں کی گرفتار کرکے جبری طور پر لاپتہ کردیتے ہیں اور بعد ازاں انکی حراستی قتل کے بعد لاشیں ویرانوں میں پھینک دیتے ہیں۔
اب تک اعدادو شمار کے مطابق بلوچستان بھر میں 40ہزار سے زائد لوگ لاپتہ ہیں اور ان میں خواتین وبچے بھی شامل ہیں۔