افغانستان کے سابق وزیرداخلہ مسعود اندرابی نے ہفتے کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں طالبان کے ہاتھوں لوک گلوکارفواد اندرابی کے قتل کی اطلاع دی ہے۔
مسعود اندرابی نے بتایا ہے کہ ”طالبان نے گاؤں اندراب میں فواد اندرابی کوبڑے بہیمانہ انداز میں قتل کیا ہے۔“
اندراب وادیِ پنج شیر کے نزدیک واقع ہے جہاں طالبان کو احمدمسعود کے زیرقیادت ملیشیاؤں اور سابق فوجیوں کی مزاحمت کا سامنا ہے۔
طالبان نے افغانستان پر کنٹرول کے چند روز بعد ہی عوامی مقامات پر موسیقی پرپابندی عاید کردی تھی۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے مبیّنہ طورپرامریکی اخبار نیویارک ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام میں موسیقی حرام ہے۔
انھوں نے کہا تھا کہ ”اسلام میں موسیقی کی ممانعت ہے۔ ہم اس کو ترک کرنے کے لیے لوگوں پر دباؤ نہیں ڈالیں گے بلکہ اس کے بجائے یہ امید کرتے ہیں،ہم انھیں اس بات پر آمادہ کرسکتے ہیں کہ وہ اس طرح کے کام نہ کریں۔“
واضع رہے کہ طالبان نے کامیڈین فنکار کاشازوان کو بھی بت دردی سے قتل کردیا تھا۔
طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ماضی میں 1996ء سے 2001ء تک اپنی پہلی حکومت کے مقابلے میں نرم لب ولہجہ اختیارکیا ہے لیکن اس کے باوجود مختلف حلقوں کی جانب سے ان خدشات کا اظہارکیا جارہا ہے کہ وہ جبرواستبداد پر مبنی معاندانہ کارروائیاں کرسکتے ہیں۔