امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکی ملٹری کمانڈرز کے مطابق اگلے 24 سے 36 گھنٹوں میں کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے بم دھماکوں جیسی ایک اور ہلاکت خیز دہشتگردانہ کارروائی کا ’بلند امکان‘ ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اپنی قومی سلامتی کی ٹیم سے ملنے والی بریفنگ کے بعد بائیڈن نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے دولتِ اسلامیہ خراسان کے خلاف ہونے والا ڈرون حملہ آخری نہیں تھا۔
’زمینی صورتحال اب بھی انتہائی خطرناک ہے اور ایئرپورٹ پر مزید حملوں کا خطرہ بلند ہے۔ ہمارے کمانڈرز نے بتایا ہے کہ اگلے 24 سے 36 گھنٹوں میں ایک اور حملے کا بلند امکان ہے۔‘
واضح رہے کہ جمعرات کو کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے بم دھماکے میں 13 امریکی فوجیوں سمیت 170 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
سنیچر کو پینٹاگون نے کہا کہ مشرقی افغانستان کے صوبے ننگرہار میں ایک ڈرون حملے میں دو ’اہم‘ افراد ہلاک ہوئیے ہیں جو پینٹاگون کے مطابق شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی رسد اور نقل و حمل کے ماہرین تھے۔
امریکہ نے سنیچر کو کابل ایئرپورٹ کے نزدیک ایک اور حملے کے ’مخصوص اور قابلِ اعتبار‘ خدشے کے تحت اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ اُس علاقے سے دور ہو جائیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کابل میں امریکی سفارت خانے نے اپنے ایک سیکیورٹی الرٹ میں شہریوں کو ایئرپورٹ سے دور ہو جانے کی ہدایت کی۔
اپنے سیکیورٹی الرٹ میں سفارت خانے نے ایئرپورٹ کے جنوبی (ایئرپورٹ سرکل) گیٹ، وزارتِ داخلہ گیٹ اور شمال مغربی جانب واقع پنجشیر پیٹرول سٹیشن گیٹ کے حوالے سے موجود خطرات کا ذکر کیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکہ کے صدر جو بائیڈن کہہ چکے تھے کہ اُن کے ملٹری کمانڈرز نے اگلے 24 سے 36 گھنٹوں میں نئے حملے کے خدشے کا اظہار کیا ہے اور یہ کہ صورتحال اب بھی ’نہایت خطرناک‘ ہے۔