یونس انورکی عدم رہائی سے گوادر کی امن و امان کی خرابی کاذمہ دار ادارے ہونگے،ماہیگیر اتحاد

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

گوادرمیں گذشتہ دنوں پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں گوادر ماہیگیر اتحاد کے جنرل سیکرٹری یونس انور کی جبری گمشدگی کیخلاف گوادرماہیگیر اتحاد کے سربراہ خداد ادواجو نے ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر یونس انور کو رہا نہیں کیا گیا گوادر کی امن و امان کی خرابی کاذمہ دار ادارے ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ گوادر ماہیگیر اتحاد ایک سوشل تنظیم ہے جو ماہیگیروں کے بنیادی حقوق اور انکے روز گار کو تحفظ فراہمی کے لئے پچھلے 3 سالوں سے کام کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ماہیگیر اتحاد نے ماہیگیروں کے بنیادی مسائل دیمی زر میں بر یک واٹر اور گزرگاہوں کے لیے جد و جہد کیا۔ اس مسئلے پرملکی متعلقہ سول اور عسکری اداروں اور وفاقی و صوبائی حکومت کا تعاون بھی شامل رہا اور آج ماہیگیر وں کی سول سوسائٹی،سیاسی جماعتوں اور متعلقہ اداروں کی مشترکہمحنت باہمی احترام و تعاون اور جدوجہد سے ماہی گیروں کے مطالبات پر عملی کام شروع کیا گیا ہے جو اب بھی جاری ہے اداروں کے ساتھ اس کواڈینیشن کو مضبوط کرنے کے لئے یونس انور کا ایک اہم رول رہا ہے۔

خداداد واجو نے کہا کہ جیسا کہ آپ سب کے علم میں یہ بات ہے کہ کل مغرب کے وقت اذان کے قریب ریاستی خفیہ اداروں نے گوادر ماہی گیر اتحاد کے جنرل سکریٹری یونس انور کو پدی زِرشیڈ پر ماہیگیر وں کے درمیان سے زبردستی اٹھایا لیا اور اسے ایک سرپ کالی گاڑی جس کے شیشے بھی کالے تھے کے اندر ڈال کر اپنے ساتھ لے گئے۔

انہوں نے کہا کہ اس خوشگوار واقعے کے بعد ماہیگیر اتحاد کے رہنماؤں نے متعلقہ اداروں سے رابطے شروع کئے تو ان متعلقہ اداروں کی طرف سے یقین دہانی کی گئی تھی کہ ایک دو گھنٹوں کے انداریونس انور کو رہا کردیا جائے گا لیکن اب اس واقعے کو 16 گھنٹے گزر گئے ہیں یونس انور کو ابھی تک رہ نہیں کیا گیا ہے۔

ہم اس پریس کا نفرنس کے توسط سے ان اداروں کو بتانا چاہتے ہیں کہ یونس انور کا تعلق ایک سوشل ماہیگیر تنظیم سے ہے جو ماہیگیروں کے بنیادی حقوق انکے فلاح و بہبود کے لئے کام کرتا ہے جس کی شناخت اور کارکردگی کسی بھی اداروں کے اندر ڈھکی چھپی نہیں ہے اور ماہیگیر اتحاد کاملکی معزز اداروں کے ساتھ بھی ایک وسیع رابطے عزت و احترام اور ہم آہنگی کا مضبوط رشتہ ہے۔

ماہیگیر اتحاد نے اپنے معزز اداروں کے ساتھ ہرممکن تعاون اور ہر وہ قومی دن چاہے وہ 23 مارچ کا دن ہو یا 14 اگست کا ماہیگیر وں نے متعلقہ اداروں کے ساتھ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ان سے بھی زیادہ جوش و جذبے کے ساتھ ان قومی دنوں کو منا کر اپنی حب الوطنی ثابت کرتے رہے لیکن کل پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے نے ماہیگیر وں کا معزز اداروں کے ساتھ اس مضبوط رشتے اور باہمی احترام کوکمزور کرنے کی ایک کوشش کی گئی ہے جو افسوس ناک ہے۔

خداد ادواجو نے پریس کانفرنس خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آج کے اس پر ہجوم پریس کانفرنس کے ذریعے سے ان متعلقہ معزز اداروں کو بتانا چاہتے ہیں کہ یونس انور ایک سماجی کارکن ہے اسکی رہائی کے لئے ماہیگیر رہنماء وں سے جو یقین دہانی کرائی گئی تھی وہ اس پر جلد عمل درآمد کر کے یونس انور کوفی الفور رہا کر دیں بصورت دیگر ملکی قانون و آئین میں ہمیں بھر پور احتجاج کا حق دے رکھاہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر یونس کی رہائی کو یقینی نہیں بنایا گیاتو حالات خرابی کی جانب جا سکتے ہیں، امن امان کا مسئلہ پیدا ہوسکتاہے، جو اس شہر کے پر امن ماحول کو، انتشار، بیگانگی غیر یقینی صورتحال میں ڈالے گا، پھر اس کی تمام تر ذمہ داری ان اداروں پر عائد ہوتی ہے، جو اس عمل کاذمہ دار ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment