نقل مکانی میں مجبور افغانوں میں سے نصف سے زیادہ بچے ہیں، اقوامِ متحدہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ رواں برس جن افغان شہریوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے ان میں سے 60 فیصد کے قریب بچے ہیں۔

یو این اوچا کے دفتر سے جاری ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق مئی سے اب تک چار لاکھ سے زیادہ افغانوں کی بطور پناہ گزین رجسٹریشن کی گئی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق رواں برس اپنا گھر بار چھوڑنے والے افغانوں کی کل تعداد ساڑھے پانچ لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔

دریں اثنااقوامِ متحدہ کے لیے افغانستان کے سفیر نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کو کسی قسم کی رعایات دینے سے قبل ان کے طرزِ حکومت پر کڑی نظر رکھے۔

غلام اسحاق زئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طالبان پر اعتماد کرنے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔ ’اس سارے معاملے میں اصل بات حکومت کو تسلیم کرنے کی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے ’تشدد میں کمی یا القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں سے تعلق کے حوالے سے اپنا کام صحیح طریقے سے نہیں کیا اس لیے میرے خیال میں طالبان کو پہلے ہی ضرورت سے زیادہ رعایتیں دی جا چکی ہیں۔

’میرے خیال میں وقت آ گیا ہے کہ ہم ذرا پیچھے ہوں اور کہیں کہ ہم اصل بہتری دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا طالبان نے حقیقت میں کام کیا ہے اور پھر ہم اس چیز کو قدم بہ قدم آگے بڑھائیں گے۔‘

Share This Article
Leave a Comment