گوادرمیں ڈپٹی کمشنر نے اپنے تازہ حکم نامے میں شہر میں احتجاجی مظاہروں پر فوری پابندی عائد کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ مظاہرے صرف پریس کلب کے احاطے اور ابراہیم پیلے گراؤنڈ میں ہوں گے۔
یہ حکم نامہ ہفتے کے روز ڈپٹی کمشنر ضلع گوادر کے دفتر سے اس وقت جاری کیا گیا جب گوادر کے قصبہ سربندن کے رہائشیوں کا شہری سہولیات اور دیگر مسائل کے حل کے لیے کوسٹل ہائی وے پر 51 گھنٹے سے جاری دھرنے کو مطالبہ کی منظوری کی یقین دہانی کے بعد ختم کیا گیا۔
دھرنے کی قیادت جماعت اسلامی بلوچستان کے جنرل سیکریٹری مولانا ہدایت الرحمن نے کی تھی۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر بجلی کی فراہمی بحال نہ ہوئی تو ڈپٹی کمشنر کے دفتر کا گھیراؤ کریں گے اور اس کے سامنے دھرنا دیں گے۔دھرنے کے خاتمے کے ساتھ ہی گوادر میں بجلی دوبارہ غائب ہوگئی ہے اور سیاسی جماعتوں نے انتباہ کیا ہے کہ اگر بجلی بحال نہ ہوئی تو سیاسی جماعتیں دوبارہ احتجاج کریں گی۔
مولانا ہدایت الرحمن نے اس حکم نامے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نالائق ڈی سی گوادر کا یہ حکم نامہ فرعونیت کی دلیل ہے،گوادر کے عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھے،اور ان کے احتجاج پر پابندیاں لگائے، ہم اس حکم نامے کو کو ڈی سی گوادر کے منہ پر مارتے ہیں یہ سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کا آغاز ہے۔

ہفتے کے روز جاری کیے گئے ڈپٹی کمشنر گوادر کے حکم میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر اور ہوم اینڈ ٹرائبل افیئرز ڈیپارٹمنٹ کی ہدایات کی روشنی میں ڈسٹرکٹ گوادر میں جاری ترقیاتی کاموں اور سی پیک سے وابستہ پروجیکٹس میں دھرنے اور احتجاجی مظاہرے نہ صرف خلل ڈال رہے ہیں بلکہ گوادر کے پر امن ماحول کو بھی خراب کر رہے ہیں۔
حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ اس بابت جتنے بھی جلسے، جلوس، مظاہرے اور دھرنے ہوں گے وہ صرف اور صرف پریس کلب کے احاطے یا ابراھیم پیلے گراؤنڈ (سورگ دل) میں ہوں گے۔اس کے علاوہ کسی روڈ یا سرکاری عمارت کے سامنے احتجاج کی اجازت نہیں ہوگی اور خلاف ورزی کرنے کی صورت قانونی کارروائی کی جائے گی۔