انڈیا کے صوبے آسام کے حکام نے کہا ہے کہ گیارہ اضلاع میں پولیس نے 14 افراد کو سوشل میڈیا پوسٹ کرنے پر گرفتار کر لیا ہے جس میں ان افراد نے افغانستان پر قبضہ کرنے کے لیے طالبان کی حمایت کی تھی۔
ایک سینئیر پولیس افسر کے حوالے سے این ڈی ٹی وی نے خبر دی ہے کہ اب تک پولیس نے کل 14 افراد کو حراست میں لیا ہے جن میں ہیلا کنڈی سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے طالب علم کو بھی گرفتار کیا ہے جو ایم بی بی ایس کر رہا ہے اور تیز پور میڈیکل کالج میں پڑھتا ہے۔
گرفتار ہونے والوں میں آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے لیڈر فضل کریم قاسمی بھی شامل ہیں۔ ان کی گرفتاری کے بعد انھیں پارٹی کے عہدے سے فارغ کر دیا گیا ہے۔
گرفتار ہونے والوں میں آسام پولیس کا ایک کانسٹیبل بھی شامل ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد میں سے کچھ نے براہ راست طالبان کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور کچھ نے انڈیا اور اپنے ملکی میڈیا پر طالبان کی حمایت نہ کرنے پر ان تنقید کی ہے۔
گرفتار افراد کو انسداد دہشت گردی کے قانون کی خلاف ورزی کے الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔