افغان حکام نے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ سوموار کو کابل ایئر پورٹ سے امریکی طیارے سے گر کرہلاک ہونیوالے دوسرے افغان شہری کی شناخت نوجوان افغان فٹ بالربھی اُنیس سالہ ذکی انوری نام سے ہوگئی ہے۔
اریانا نیوز ایجنسی نے جمعرات کو رپورٹ میں کہا ہے کہ افغانستان کی قومی فٹ بال ٹیم کے کھلاڑی ذکی انواری گذشتہ پیر کو کابل ہوائی اڈے پر امریکی طیارے سے گرنے کے بعد چل بسا تھا۔
اُنیس سالہ ذکی انوری افغانستان کی جونیئر قومی ٹیم کے لیے کھیلتے تھے۔
فیس بک پر افغانستان کے محکمہ برائے کھیل و جسمانی تعلیم نے ذکی انوری کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور اُن کے لیے دعا کی اپیل کی۔
گذشتہ اتوار کو طالبان کے حکومت کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد نے ہوائی اڈے پر جمع ہو کر افغانستان سے بھاگنے کی کوشش کی اور بہت سے لوگ چلتے ہوئے طیارے میں سوار ہونے کی کوشش کرتے دیکھے گئے۔
افغان اریانا ایجنسی نے بتایا کہ انواری امریکی فضائیہ کے بوئنگ سی 17 طیارے سے گر گیا۔ جنرل سپورٹس اتھارٹی نے اس کی موت کی تصدیق کی ہے۔
قبل ازیں یہ اطلاعات آئی تھیں کہ امریکی طیارے سے گر کرہلاک ہونے والا ایک ڈاکٹر ہے جس کی شناخت محمد فدا کے نام سے کی گئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق امریکی طیارے سے لٹکنے والے تین افراد طیارے کے اڑان بھرنے کے کچھ دیر بعد گر کرہلاک ہوگئے تھے۔
واضع رہے کہ طالبان کی جانب سے افغانستان پر قبضے کے بعد سے ہزاروں لوگ کابل ایئرپورٹ پر جمع ہو رہے ہیں تاکہ ملک سے باہر جا سکیں۔
مغربی ممالک اپنے شہریوں اور اُن کے افغان ساتھیوں کو نکال رہے ہیں۔ پیر کو تصاویر سامنے آئی تھیں جس میں سینکڑوں لوگ امریکی فضائیہ کے طیارے کے ساتھ بھاگ رہے تھے جبکہ کچھ لوگ اس کی ایک جانب بیٹھے ہوئے تھے۔
مقامی میڈیا کے مطابق طیارے کے ٹیک آف کرنے کے بعد دو لوگ اس سے گر کر ہلاک ہو گئے جبکہ امریکی فضائیہ نے تصدیق کی ہے کہ ایک جہاز کے قطر پہنچنے کے بعد اس کے پہیوں سے انسانی باقیات بھی ملی ہیں۔