بلوچستان کے اضلاع کیچ اور خضدار میں پاکستانی فوج اور اعلیٰ پولیس حکام کے قافلوں کو بم دھماکے اور مسلح حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
ان واقعات کے نتیجے میں 2 فوجی اہلکار ہلاک جبکہ 3 پولیس اہلکار شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ضلع کیچ کے علاقے ہیرونک میں ‘کنرک’ کے مقام پر چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) روٹ سے گزرنے والے پاکستانی فوج کے ایک قافلے کو سڑک کنارے نصب بم (IED) کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
اطلاعات کے مطابق اس خوفناک دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 2 فوجی اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ ملٹری گاڑی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
دوسری جانب، ضلع خضدار کی تحصیل کرخ میں نامعلوم مسلح افراد نے ڈی آئی جی خضدار رینج عمران قریشی اور ایس ایس پی خضدار کے مشترکہ قافلے پر گھات لگا کر اچانک اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ روز کرخ پولیس تھانے پر نامعلوم افراد کی جانب سے بم دھماکہ کیا گیا تھا۔ واقعے کے بعد ڈی آئی جی خضدار رینج عمران قریشی اور ایس ایس پی خضدار بھاری نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ کا جائزہ لینے اور تحقیقات کے لیے کرخ پہنچے تھے۔
پولیس آفیسرز امدادی کارروائیوں اور تحقیقات کے بعد جیسے ہی واپسی کے لیے روانہ ہوئے، کرخ کے علاقے میں پہلے سے گھات لگائے مسلح افراد نے ان کے قافلے پر فائرنگ کر دی۔
حملے کے نتیجے میں 3 پولیس اہلکار شدید زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ ڈی آئی جی اور ایس ایس پی دونوں محفوظ رہے۔
حکام کے دعوے کے مطابق پولیس کی جوابی فائرنگ کے بعد حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔