آزادی پسند بلوچ مسلح تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے گوادر میں ‘آپریشن الماس’ کی تفصیلات میڈیا کو جاری کر دیں۔
ترجمان کے مطابق گوادر میں پاکستانی فوج، استعماری انٹیلی جنس نیٹ ورک اور استحصالی اداروں کے مراکز پر بی ایل ایف کی خصوصی عسکری یونٹس کے ہمہ گیر، مربوط، منظم اور مؤثر حملوں میں 80 سے زائد عسکری و انٹیلی جنس اہلکار ہلاک ہو گئے۔ کارروائیوں کے دوران متعدد بکتر بند گاڑیاں، مرکزی فوجی بیرکس اور جاسوسی دفاتر تباہ کیے گئے، جبکہ 4 کواڈ کاپٹر اور 2 سرویلنس ڈرون فضا میں تباہ، پولیس تھانے پر قبضہ اور گبد و ریمدان 250 میں بھی مہلک کارروائیاں کی گئیں۔
ترجمان کے مطابق ریاست کے استحصالی عزائم پر کاری ضرب لگانے کے بعد ‘آپریشن الماس’ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ 22 اکتوبر 2026 کو شام چار بجے گوادر اور اس سے ملحقہ ساحلی خطے میں قابض پاکستانی ریاستی ڈھانچے کے خلاف شروع کیے جانے والے تاریخی، منظم، مؤثر، مربوط اور ہمہ گیر عسکری معرکے آپریشن الماس کے تمام تر دور رس عسکری اور سیاسی کامیابیوں کے احوال کو باضابطہ طور پر قوم، محکوم اقوام اور عالمی برادری کے سامنے پیش کرتی ہے۔ یہ آپریشن قابض پاکستانی ریاست، اس کی غاصب فوج، انٹیلی جنس نیٹ ورک، استحصالی اقتصادی اداروں اور مقامی کٹھ پتلی انتظامیہ کے خلاف اب تک کی سب سے منظم، مربوط، اور دور رس نتائج کی حامل کارروائی ہے۔ یہ معرکہ تنظیم کے اس عزم اور صلاحیت کا اظہار ہے کہ بلوچ قوم کی آزادی، قومی بقا، ساحل و وسائل کے دفاع کی جدوجہد میں نڈر بلوچ خواتین اور مرد سرمچاروں کی شانہ بہ شانہ انقلابی شمولیت غاصب استعمار کے خاتمے کی نوید ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس عظیم الشان تاریخی آپریشن کا نام بی ایل ایف کی نڈر اور بہادر گوریلا کمانڈر الماس بلوچ کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ کمانڈر الماس گزشتہ 8 سالوں سے بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے مسلح قومی دفاعی جدوجہد میں فعال، سرگرم اور نظریاتی بنیادوں پر وابستہ رہی ہیں۔ کمانڈر الماس نے دشت، تربت اور گوادر میں انٹلیجنس ونگ سے وابستہ ہوکر ایک فعال رکن کے طور پر اہم معلومات تںظیم کو پہنچانے کے لئے متحرک رہی ہیں۔ فوجی آپریشنوں کے دوران دشت کے محاذ پر سخت ترین حالات میں پہاڑوں پر سرمچاروں کو لاجسٹک کمک پہچانے کی اہم ذمہ داری ادا کرتی رہی ہیں۔ کمانڈر الماس کو پاکستان فوج اور ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکاروں نے تشدد کا نشانہ بنایا جس سے وہ سخت زخمی ہوئیں، تاہم اس کے باجود مسلح محاذ پر ثابت قدم رہیں اور جہدوجہد آزادی کا پرچم بلند رکھا۔ ریاستی اداروں نے الماس کو بارہا آغوا کرنے کی کوششیں کیں لیکن وہ اپنے مقصد سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہوئیں اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں روپوش ہوکر تنظیمی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھاتی رہیں۔ الماس نے ریاستی جبر کا خندہ پیشانی سے سامنے کرکے اس فکر کی آبیاری کی ہے کہ قومی آزادی کے راستے پر ہر طرح کی مشکلات قبول ہیں لیکن قومی غلامی کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ الماس نے اس فکر کی عملی طور پر آبیاری کے لئے خود کو قربان کرنے کا فیصلہ کیا۔ کمانڈر الماس نے بلوچستان لبریشن فرنٹ کے مختلف دستوں میں اپنی ذمہ داریاں انجام دیں اور سدو آپریشنل بٹالین کی بنیاد رکھنے کے ساتھ ہی اس کا حصہ بنیں۔ وہ اس تاریخی آپریشن الماس کی سیکنڈ ان کمانڈ تھیں اور انہوں نے نہ صرف اس پیچیدہ و مربوط معرکے کی عسکری و تزویراتی منصوبہ بندی میں بنیادی کردار ادا کیا بلکہ میدانِ جنگ میں بھی سرمچاروں کی صفِ اول میں قیادت کرتے ہوئے قابض پاکستانی فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچائی۔ قومی جنگ آزادی میں مختلف محاذوں پر بہادری سے فعال کردار ادا کرنے پر کمانڈر الماس کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے بلوچستان لبریشن فرنٹ کے قیادت نے اس تاریخی آپریشن کو الماس کے نام سے منسوب کیا ہے۔ اور آنے والے تمام آپریشن جو اپنے ساحل کے دفاعی میں کی جائے گی وہ آپریشن الماس کے نام سے منسوب ہونگے تاکہ بلوچ قوم اور اقوام عالم الماس کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کمانڈر الماس نے جس جرات، مدبرانہ حکمتِ عملی اور میدانِ جنگ میں صفِ اول کی قیادت کا مظاہرہ کیا، اس نے ان تمام فرسودہ نظریات کو دفن کر دیا جو یہ سمجھتے تھے کہ بلوچ خواتین اس قومی جنگ میں محض تماشائی کا کردار ادا کریں گی۔ بلوچ عورت نے اس معرکے میں شانہ بشانہ لڑتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ آزادی کی اس جنگ میں ماں، بہن اور بیٹی کا یہ روپ قابض ریاست کے لیے ایک ایسا عذابِ مسلسل ہوگا، جس سے فرار کا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔ کمانڈر الماس کی یہ شاندار قیادت، شجاعت اور مسلسل جدوجہد بلوچ قومی تحریکِ آزادی میں خواتین کی عسکری محاذ پر شمولیت سے لے کر میدان جنگ میں کمانڈ کرنے تک، بلوچ خواتین کے لئے مشعل راہ ہوں گی۔ بلوچ عورت کی یہ انقلابی شمولیت قابض ریاست اور اس کی پدرسری و غاصبانہ ذہنیت کے لیے ایک گہرا تاریخی دھچکا ہے جو بلوچ معاشرے میں خواتین کے کردار کو کمزور سمجھنے کی خام خیالی میں مبتلا تھی اور الماس کی قومی جدوجہد میں لازوال کردار بلوچ سماج میں ریاست کی استعماری فکری یلغار کو روکنے کے لئے دیوار کا کردار ادا کرے گی۔
بیان میں کہا گیا کہ 22 اکتوبر 2026 کو شام چار بجے بلوچستان لبریشن فرنٹ کی خصوصی اور اعلیٰ تربیت یافتہ عسکری یونٹ سدو آپریشن بٹالین (سوب) کے جند ندر سرمچار مجاہد مہر عرف سگار زامرانی نے قابض پاکستانی فوج کے مرکزی قلعے پر مہلک و مؤثر حملے سے اس تاریخ ساز اور بے مثال کارروائی کا باضابطہ آغاز کیا۔ مجاہد مہر نے بارود سے لدی ہوئی اپنی گاڑی کو گوادر میں واقع قابض پاکستانی فوج اور اس کے اہم استحصالی فوجی ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) کے مرکزی کیمپ کے مین گیٹ سے ٹکرا کر ایک طاقتور دھماکہ کیا۔ اس جند ندری حملے کا بنیادی مقصد دشمن کے مضبوط عسکری و دفاعی حصار کو یکسر تہس نہس کرنا، اس کے اعصابی نظام کو مفلوج بنانا اور کیمپ کے اندر پیش قدمی کے لیے اپنے ساتھی سرمچاروں کی راہ کو مکمل طور پر ہموار کرنا تھا۔ یہ ایک منظم، مربوط اور ہمہ گیر حملہ تھا جس کے تحت عین اسی وقت گبد اور 250 ریمدان کے علاقوں میں بھی قابض فوج کے کیمپوں اور چوکیوں پر بیک وقت کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ کی دیگر تمام عسکری یونٹس بشمول قربان یونٹ، کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن، اسنائپر ٹیکٹیکل ٹیم اور انٹیلی جنس یونٹ نے گوادر، گبد اور ریمدان 250 کے علاقوں میں ایک ساتھ وسیع پیمانے پر اپنی طے شدہ عسکری حکمتِ عملی پر عمل درآمد شروع کر دیا، جس سے قابض پاکستانی فوج کا علاقائی دفاعی نیٹ ورک لمحوں میں مفلوج ہو کر رہ گیا۔
میجر گہرام کا کہنا تھا کہ جند ندر سرمچار مجاہد مہر عرف سگار زامرانی کے اس عظیم قربانی اور طاقتور دھماکے کے نتیجے میں کیمپ کا مرکزی گیٹ، اس سے متصل پولیس چوکی اور داخلے پر قائم تمام سیکیورٹی رومز مکمل طور پر تباہ، اور وہاں تعینات تمام عسکری اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ مرکزی دفاعی راستہ کلیئر ہوتے ہی سدو آپریشن بٹالین (سوب) کے دیگر تمام سرمچار کیمپ کے اندر داخل ہو گئے۔ کیمپ کی حدود میں داخل ہوتے ہی سدو آپریشن بٹالین (سوب) کے سرمچاروں نے اعلیٰ عسکری نظم و ضبط کے ساتھ پیش قدمی کا آغاز کیا۔ سرمچاروں کا سب سے پہلا عسکری و تزویراتی ہدف کیمپ کے اندر قائم قابض پاکستانی فوج کی بدنامِ زمانہ جاسوس ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (ISI) کا مرکزی دفتر تھا۔ سرمچاروں نے آئی ایس آئی کے اس خفیہ ہیڈکوارٹر پر راکٹ، گرینیڈز اور خودکار ہتھیاروں سے دوطرفہ حملہ کیا۔ اس حملے میں آئی ایس آئی کا ایک افسر اپنے 5 دیگر اہلکاروں اور مسلح محافظوں سمیت ہلاک کئے گئے۔
انہوں نے کہا کہ اس اہم ترین جاسوسی مرکز کو تباہ کرنے کے بعد سرمچاروں نے کیمپ کے اندرونی حصے میں قائم ایک اور عسکری انتظامی دفتر کا رخ کیا۔ انتہائی قریبی اور دو بدو تصادم کے بعد وہاں موجود ملٹری انٹیلیجن (Mi) کے کپٹن سمیت 6 اہلکاروں کو ہلاک کر کے اس دفتر کو بھی تباہ کردیا گیا۔ اس کے بعد سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے مرکزی اور کثیر المنزلی رہائشی بیرکس کو نشانہ بنایا جہاں دشمن پناہ لیے ہوئے تھا۔ بیرک کے اندر سرمچاروں اور قابض پاکستانی فوج کے درمیان طویل جھڑپ شروع ہوئی۔ روم کلیئرنس اور بیرک کی مختلف منزلوں پر گھمسان کی جنگ کے دوران پہلی منزل پر موجود 12 اہلکار اور دوسری منزل پر چھپے ہوئے 9 اہلکار مارے گئے۔ بیرکس میں جاری اس معرکے کے دوران مجموعی طور پر 21 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
ترجمان کے مطابق بیرک کی عمارت پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سرمچاروں نے اسی بلند بلڈنگ کو اپنا تسخیر شدہ مورچہ بنا لیا اور وہاں سے پوری عمارت اور کیمپ کے اندر قابض پاکستانی فوج کے کسی بھی قسم کی حرکت کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا۔ اس عمارت کو قبضہ کرنے کے بعد تمام رات قابض پاکستانی فوج نے کیمپ کی جانب پیش قدمی اور اسے واپس حاصل کرنے کے لیے یکے بعد دیگرے کئی حملے کیے، مگر سرمچاروں کی مزاحمت اور محکم عزم کے سامنے ان کا ہر حملہ یکسر ناکام رہا ہے۔ اس دوران شدید جھڑپوں اور محاصرے کے دوران قابض فوج نے نگرانی کے لیے اپنے جاسوسی آلات استعمال کیے، تاہم سرمچاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملے کے دوران دشمن کے 4 حملہ آور کواڈ کاپٹر اور 2 جدید سرویلنس ڈرون بھی فضا میں ہی کامیابی کے ساتھ مار گرائے۔
انہوں نے کہا کہ رات کی تاریکی میں سرمچاروں اور قابض پاکستانی فوج کے درمیان 9 الگ الگ اور شدید عسکری جھڑپیں وقوع پذیر ہوئیں، پہلی جھڑپ میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے گیارہ سے زائد اہلکار ہلاک کیے، دوسری جھڑپ میں فوج کے مزید 7 سے زائد اہلکار ہلاک ہوئے اور تیسری جھڑپ کے دوران 3 سے زائد فوجی اہلکار مارے گئے۔ اس کے بعد ہونے والی مسلسل چھ دیگر جھڑپوں میں قابض پاکستانی فوج کے درجنوں اہلکار شدید زخمی اور ہلاک ہوئے، جس کے بعد قابض پاکستان فوج کے اہلکار پسپا ہو کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔ ایف ڈبلیو او کے مرکزی کیمپ کے اندر آمنے سامنے لڑنے کی صلاحیت سے مکمل محروم ہو جانے کے بعد، قابض پاکستانی فوج نے رات کے پچھلے پہر سے لے کر صبح کے طلوع ہونے تک دور سے مارٹر کے گولے داغنا شروع کر دیے، جو کیمپ کی اندرونی عمارتوں پر گرتے رہے۔ صبح کا سورج طلوع ہوتے ہی، کیمپ میں موجود سرمچاروں کی پوزیشنز کو مسلسل توپ کے گولوں سے نشانہ بنایا گیا جس کی زد میں آ کر الماس اور نودان معمولی زخمی ہوئے، لیکن ان زخموں کے باوجود ان کے جوش و جذبے میں ذرہ برابر کمی نہیں آئی اور وہ پورے عزم کے ساتھ قابض پاکستانی فوج کے خلاف برسرِ پیکار رہے۔
بیان میں کہا گیا کہ صبح کے وقت قابض پاکستانی فوج نے تازہ دم دستوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ کیمپ پر چڑھائی کی آخری اور شدید ترین کوشش کی مگر سرمچاروں کی شاندار دفاعی حکمتِ عملی کے بعد انہیں ایک بار پھر مکمل ناکامی، رسوائی اور ہزیمت کے ساتھ پیچھے ہٹنا پڑا۔ اس معرکے میں قابض پاکستانی فوج کے 13 کے قریب اہلکار ہلاک ہوئے اور ان کی 2 بکتر بند گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔
انہوںنے مزید کہا کہ 20 گھنٹوں سے زائد وقت تک کیمپ پر اپنا کامل اور تاریخی قبضہ برقرار رکھنے کے بعد، جب تمام سرمچاروں کے پاس گولہ بارود ختم ہوگئے اور گولیاں آخری حد تک پہنچ گئیں، تو انہوں نے اپنے آپریشنل کمانڈ سے آخری رابطہ قائم کیا اور اپنا تاریخی پیغام دیا کہ ہم اپنے آپ کو آخری گولی کے انقلابی فلسفے کے ساتھ آزاد بلوچستان کی نصرت اور قومی وقار پر ندر کرنے کے لیے قربان ہونے کا تاریخی قدم اٹھا رہے ہیں۔ آپریشن الماس کا آغاز ہمارے جند ندر سرمچار سگار زامرانی نے بارود سے بھری گاڑی کے دھماکے سے کیا اور آپریشن آلماس کا اختتام کمانڈر خالد سمیت ساتھی سرمچاروں نے آخری گولی کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے کیا۔
تنظیم کے مطابق آپریشن الماس کے باقاعدہ اور مربوط نقشے کے تحت بی ایل ایف کی قربان یونٹ اور دیگر دستوں نے گوادر کے ساتھ ساتھ گبد اور ریمدان 250 کے علاقوں میں بیک وقت مربوط کارروائیاں سرانجام دیے، گوادر میں ایف ڈبلیو او کے مرکزی کیمپ پر حملے کے ساتھ ہی گبد اور ریمدان 250 کے علاقوں میں قابض فوج کے مورچوں پر مربوط حملے کیے گئے، جہاں دشمن کو شدید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا اور اس کے دفاعی دستے بری طرح پسپا ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ قربان یونٹ کے سرمچاروں نے گوادر کے مژانی پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا۔ اس کارروائی کے دوران پنجاب سے تعلق رکھنے والا ایک سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوا جبکہ باقی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ مژانی کے ہی مقام پر قومی ساحل و وسائل کی لوٹ مار اور پنجاب کے معاشی مفادات سے منسلک 3 بوزر گاڑیوں کو سرمچاروں نے نذرِ آتش کردیا۔
بیان میں کہا گیا کہ سرمچاروں نے گبد کلاتو کے مقام پر بھی استحصالی ریاست اور اس کی فوج کے معاشی مفادات کے حصول کے لئے استعمال ہونے والی 2 بڑی گاڑیوں کو آگ لگا کر تباہ کر دیا جبکہ متعدد دیگر گاڑیوں کو جزوی نقصان پہنچایا۔ قربان یونٹ کے سرمچاروں نے گبد کلاتو پولیس اسٹیشن پر حملہ کر کے وہاں قبضہ کیا۔ سرمچاروں نے تھانے سے ایک سرکاری گاڑی بھی ضبط کیا۔ کارروائی کے بعد جب قابض پاکستانی فوج کا ایک دستہ پیش قدمی کے لیے پہنچا تو گبد کلاتو پل کے مقام پر ان کے ساتھ 2 گھنٹے تک شدید جھڑپ ہوئی۔ اس جھڑپ کے دوران قابض پاکستانی فوج کی 1 گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی جس میں سوار 8 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو ئے ہیں۔
میجر گہرام بلوچ نے کہا کہ آپریشن الماس کے آغاز کے ساتھ ہی سرمچاروں کے ایک اور دستے نے گبد پولیس اسٹیشن کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا۔ سرمچاروں نے انسانی، اخلاقی اور قومی اصولوں کے تحت تھانے میں موجود مقامی اہلکاروں کو ہتھیار ڈالنے کی ترغیب دی تاکہ کسی قسم کا جانی نقصان نہ ہو، تاہم انہوں نے قابض ریاست کے آلہ کار بن کر مزاحمت کرنے کی ناکام کوشش کی، جس پر سرمچاروں نے تھانے پر راکٹوں، گرینیڈ لانچروں اور دیگر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں تھانے کے اندر آگ بھڑک اٹھی جس سے سرکاری عمارت کو نقصان پہنچا۔ عین اسی وقت سرمچاروں کے دوسرے دستے نے 250 بارڈر کے مقام پر قائم قابض پاکستانی فوج کے کیمپ کو راکٹوں اور بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا جس میں قابض پاکستانی فوج کے متعدد اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔ حملے کے دوران متعدد اہلکار فرار ہوکر ایرانی حدود میں داخل ہوکر ایرانی فوج کے مورچوں میں پناہ لیا۔ کیمپ پر حملے کے بعد سرمچاروں نے قومی وسائل کی لوٹ مار اور استعماری تجارت میں ملوث ٹریلروں، ٹرکوں اور دیگر گاڑیوں کو روک کر ان کی تلاشی لی اور قابض ریاست کے معاشی مفادات سے منسلک گاڑیوں کو نذرآتش کردیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کارروائی مکمل کر کے جب سرمچار واپس نکل رہے تھے تو قابض پاکستانی فوج کی مدد کے لیے آنے والے اہلکاروں کی 3 گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلے کو سرمچاروں نے گھات لگا کر حملے کا نشانہ بنایا۔ 2 گھنٹے تک جاری رہنے والے اس جھڑپ میں قابض پاکستانی فوج کے درجنوں اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے اور ان کی تمام گاڑیاں ناکارہ بنا دی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آپریشن الماس کے دوران بی ایل ایف کی تمام یونٹس کی مجموعی کارروائیوں میں ملٹری انٹیلیجن (MI) کے کیپٹن، آئی ایس آئی کے افسر، ایس ایس جی کمانڈوز سمیت قابض پاکستانی فوج کے 80 سے زائد عسکری و انٹیلی جنس اہلکار ہلاک اور درجنوں شدید زخمی ہوئے۔ اس آپریشن کے دوران اسنائپر ٹیم نے 6 اہلکار ہلاک کیے۔ قابض پاکستانی فوج کی 12 بکتر بند گاڑیاں، سپلائی ٹرک اور کمک کے قافلے مکمل طور پر تباہ اور ناکارہ بنا دیے گئے۔ معرکے کے دوران دشمن کے 4 حملہ آور کواڈ کاپٹر اور 2 سرویلنس ڈرون فضا میں ہی نشانہ بنا کر مار گرائے گئے۔ 5 بڑے بوزر اور متعدد تجارتی ٹریلرز و ٹرک جلائے گئے۔ مژانی اور گبد کلاتو کے پولیس تھانے پر قبضہ، ایف ڈبلیو او اور آئی ایس آئی کا مرکزی ہیڈکوارٹر، دفاتر، بیرکس اور متعدد سیکیورٹی چوکیاں دھماکوں سے تباہ کئے گئے۔
تنظیم کے مطابق تاریخ کے ہر موڑ پر جب بھی کسی محکوم اور مظلوم قوم نے استعماری تسلط، جبرِ مسلسل اور محکومی کی زنجیروں کو توڑنے کا فیصلہ کیا ہے، تو انہوں نے اپنے خون سے اپنے مستقبل کے باب رقم کیے ہیں۔ بلوچستان کا خطہ، جو اپنی جغرافیائی اہمیت، معدنی دولت اور ساحلی وسعت کی بنا پر ہمیشہ سے بیرونی غاصبوں اور سامراجی طاقتوں کی نظروں میں کھٹکتا رہا ہے، ایک طویل عرصے سے ریاستی جبر، معاشی استحصال اور فوجی جارحیت کی چکی میں پس رہا ہے۔ پاکستان نامی اس نام نہاد ریاست نے گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے بلوچ قوم کی مرضی کے خلاف اس کی سرزمین پر قابض ہو کر یہاں کے وسائل کو بے دریغ لوٹا ہے اور یہاں کے باوقار باسیوں کو وطن بدر کرنے کی مذموم کوششیں کی ہیں۔ اس استعماری جبر اور غلامی کو بلوچ قوم نے کبھی بھی مقدر نہیں مانا بلکہ ہر دور میں فکری، سیاسی اور مسلح محاذوں پر بھرپور مزاحمت کا پرچم بلند رکھا ہے۔ اس مسلسل اور ناقابلِ تسخیر مزاحمتی سفر میں بلوچستان لبریشن فرنٹ ایک ایسی فولادی دیوار بن کر ابھری ہے جس نے قابض ریاست کے غرور اور اس کے عسکری تکبر کو بارہا خاک میں ملایا ہے۔ گوادر اور اس کے گردونواح میں رونما ہونے والا تاریخی معرکہ آپریشن الماس اسی تسلسل کی ایک شاندار اور درخشاں کڑی ہے جو خطے کے عسکری توازن کو بدلنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ کسی بھی قومی تحریکِ آزادی کی کامیابی کا دار و مدار اس کی نظریاتی پختگی، تنظیمی نظم و ضبط، اور اس کے سرمچاروں کے عزمِ محکم پر ہوتا ہے۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ نے جس عسکری فہم اور سیاسی بصیرت کے ساتھ آپریشن الماس کی منصوبہ بندی کی ہے، یہ اس بات کا عملی اظہار ہے کہ بلوچ سرمچار اب صرف دفاعی جنگ تک محدود نہیں ہیں بلکہ وہ دشمن کے گھر میں گھس کر اس کے ناقابلِ تسخیر سمجھے جانے والے قلعوں کو تہس نہس کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن الماس ایک ایسا مربوط، ہمہ گیر اور مرحلہ وار تزویراتی منصوبہ ہے۔ جس نے قابض فوج کے انٹیلی جنس نیٹ ورکس، اور اس کے استحصالی بازوؤں کو بیک وقت مفلوج کر کے رکھ دیا۔ اس معرکے کی سب سے بڑی انفرادیت یہ ہے کہ سرمچاروں نے نہ صرف دشمن کے مرکزی کیمپ پر قبضہ کیا بلکہ 20 گھنٹوں سے زائد کے طویل دورانیے تک اس پر کنٹرول برقرار رکھا۔ دشمن کے چار جدید کواڈ کاپٹرز اور دو سرویلنس ڈرونز کو فضا میں ہی مار گرانا سرمچاروں کا تکنیکی صلاحیت کا عملی اظہار ہے اور مستقبل میں اس اہم جنگی شعبے میں پیش قدمی کا آغاز ہے۔ جند ندر سرمچاروں نے آخری گولی کے انقلابی فلسفے کے تحت جو پیغام دیا، وہ تاریخ کے سنگ میل پر ہمیشہ کے لیے کندہ ہو چکا ہے۔ یہ قربانی اس بات کی غماز ہے کہ بلوچ سرمچار اپنی سرزمین کے ایک ایک انچ کی حفاظت کے لیے جان کا نذرانہ دینے کے لئے ہمیشہ تیار ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ اس تمام تر عسکری پس منظر کے ساتھ ساتھ، اس آپریشن کا سیاسی اور نظریاتی پہلو بھی اتنا ہی واضح ہے کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کسی بھی بیرونی طاقت یا ملک کے خلاف نہیں بلکہ اس غاصب و قابض پاکستان اور اس کے استحصالی نظام کے خلاف ہے جو ہمارے ساحل اور وسائل کی لوٹ مار میں مصروف ہے۔ ایف ڈبلیو او (FWO) اور دیگر نام نہاد ترقیاتی ادارے دراصل اس قابض فوج کے وہ تجارتی و عسکری بازو ہیں جو ہمارے وسائل کو لوٹنے، عالمی استحصالی کمپنیوں کی رکھوالی کرنے اور ہماری ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن پر یہ حملہ دنیا کے استحصالی اداروں کے لئے واضع پیغام ہے کہ وہ فوج کے سائے میں بھی بلوچستان لبریشن فرنٹ کے حملوں سے محفوظ نہیں رہیں گے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری، ریکوڈک، سیندک اور بلوچستان میں جاری جتنے بھی استحصالی منصوبے ہیں، وہ سدو آپریشنل بٹالین کے نشانے پر ہوں گے اور بلوچ قوم کی مرضی ؤ منشا کے بغیر پاکستانی شراکت میں جاری منصوبوں پر حملوں میں غیر ملکی ادارے اپنے نقصان کے ذمہ دار خود ہوں گے۔
میجر گہرام بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کا یہ تاریخی معرکہ قابض پاکستانی ریاست، اس کے جرنیلوں، اس کے انٹیلی جنس نیٹ ورکس اور اس کے تمام ملٹری و سیمی ملٹری اداروں کے لیے عملی چیلنج ہیں۔ ہمارے سرمچار اپنی زمین کی آزادی کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گے اور آپریشن الماس اپنے ساحل کی دفاع میں کیا جانے والے حملوں کا آغاز ہے، قابض ریاست اور استحصالی اداروں پر سدو آپریشنل بٹالین کے حملے جاری رہیں گے۔ قابض فوج کا آخری سپاہی جب تک بلوچستان کے سر زمین پر موجود ہے اور ہمارے ساحل و وسائل کی یہ غاصبانہ لوٹ مار جب تک بند نہیں ہوتی، سرمچاروں کی یہ صاعقہ فگن، بے رحم اور فتح مندانہ کارروائیاں مزید شدت، وسعت اور تندہی کے ساتھ جاری رہیں گی۔ آپریشن الماس ان تمام شہداء، جند ندر سرمچاروں اور اسیروں کے نام ہے جنہوں نے اپنے خون سے آزادی کے اس چراغ کو روشن رکھا ہے اور یہ اس عزم کا اعادہ ہے کہ منزلِ مقصود اور آزاد ؤ خود مختار بلوچستان کے حصول تک ہماری یہ جدوجہد کسی بھی لمحے سست نہیں پڑے گی۔