امریکی صدر جو بائیڈن نے یہ بھی کہا کہ ’ہم نے طالبان کو واضح کر دیا ہے کہ اگر انھوں نے ہمارے عملے کو نشانہ بنایا یا امریکی آپریشن میں خلل ڈالنے کی کوشش کی تو اس کا جواب فوری اور بذریعہ طاقت دیا جائے گا۔
’اگر ضرورت پڑی تو ہم تباہ کن قوت سے لوگوں کا دفاع کریں گے۔‘
امریکی صدر نے مزید کہا ’مجھے ان حقائق پر شدید دکھ ہے جن کا ہمیں اب سامنا ہے لیکن مجھے افغانستان میں امریکہ کی جنگ ختم کرنے کے اپنے فیصلے پر پچھتاوا نہیں۔‘
امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں ’سفارت کاری کے لیے کوشش جاری رکھے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان کے عوام کی حمایت اور ان کے بنیادی حقوق کے لیے کوشش جاری رکھے گا۔
’میں اس بارے میں واضح رہا ہوں کہ انسانی حقوق ہماری خارجہ پالیسی کا مرکز ہونا چاہیے لیکن ایسا کرنے کا طریقہ لامحدود فوجی تعیناتیوں کے ذریعے نہیں۔‘
امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ افغانستان میں پیدا ہونے والا حالیہ بحران امریکہ کے ان سابق فوجیوں کے لیے ’قابل تکلیف‘ ہے جنھوں نے وہاں گزشتہ 20 سال جنگ لڑی۔
’یہ ان کے لیے بہت زیادہ ذاتی ہے اور میرے لیے بھی یہ ایسا ہی ہے۔ میں نے ان مسائل پر ایک لمبے عرصے تک کام کیا ہے۔‘
’کابل سے قندھار تک میں نے لوگوں سے بات کی۔ میں نے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ میں نے اپنی افواج سے بات کی۔‘
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکی مہم کا مقصد ’قوم کی تعمیر نہیں‘ بلکہ ’امریکی سرزمین پر ایک دہشت گرد حملے کو روکنا تھا۔‘
افغانستان کی حالیہ صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ امریکی فوج کے انخلا کے فیصلے پر قائم ہیں تاہم طالبان نے جس سرعت سے پیش قدمی کی اس کا انھیں اندازہ نہیں تھا۔
’میں نے ہمیشہ امریکی عوام سے وعدہ کیا ہے کہ میں ان کے ساتھ ہوں لیکن میں تسلیم کرتا ہوں کہ طالبان کی حالیہ پیشرفت سے صورتحال ہماری توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے کھل کر سامنے آئی ہے۔‘
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’امریکی اس جنگ میں لڑتے اور مرتے نہیں رہ سکتے جس میں افغان اپنے لیے لڑنے کے لیے تیار نہیں۔‘
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ افغان حکومت طالبان کے ساتھ سیاسی تصفیہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ’اشرف غنی نے اس بات پر اصرار کیا کہ افغان فورسز لڑیں گی لیکن ظاہر ہے کہ وہ غلط تھے۔