امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ انھوں نے ’سفارتی، فوجی اور انٹیلی جنس گروپوں کی سفارشات کی بنیاد پر‘ افغانستان میں موجود ’امریکی عملے‘ اور ’امریکی اتحادیوں‘ کو ملک سے نکالنے کے لیے ’تقریباً پانچ ہزار امریکی فوجیوں کی تعیناتی‘ کی اجازت دی ہے۔
امریکی صدر کے بیان کے مطابق وہ گذشتہ کئی روز سے امریکی قومی سلامتی ٹیم سے اس حوالے سے بات چیت کر رہے تھے اور اس بارے میں انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ افغانستان میں امریکی عسکری مشن ختم کرنے کے بعد بھی وہ علاقے میں ہونے والی صورتحال کی نگرانی کریں گے تاکہ مستقبل میں افغانستان سے ابھرنے والے کسی بھی دہشت گردی کے خطرے سے نمٹا جا سکے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ انھوں نے دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کو پیغام دیا ہے کہ اگر طالبان کی جانب سے ایسی کوئی بھی کارروائی کی گئی جس سے امریکی عملے اور ان کے مشن کو خطرہ پہنچنے کا خدشہ ہو، تو امریکہ بھرپور قوت سے جواب دے گا۔
صدر بائیڈن نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ افغان فوج کو خود اپنی سرزمین کی ذمہ داری لینا تھی۔
انھوں نے کہا کہ وہ ایک اور ملک میں خانہ جنگی کے دوران نہ ختم ہونے والی امریکی موجودگی کا جواز نہیں دے سکیں گے۔ بائیڈن کا موقف تھا کہ مزید پانچ برسوں سے بھی کوئی فرق نہ پڑے اگر افغان فوج خود اپنے ملک کی ذمہ داری نہ لے۔