چین نے بھارت کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کردیا کہ کراچی کے لیے روانہ ہونے والے زیر حراست چینی تجارتی بحری جہاز پر ایسا سامان لدا تھا جو عدم پھیلائو اور برآمداتی کنٹرول کی پابندیوں کی خلاف ورزی ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لیجیان شائو نے بیجنگ میں ایک میڈیا بریفنگ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’چین سے پاکستان جانے والے بحری جہاز کو بھارت نے حراست میں لیا تھا لیکن جہاز پر موجود آٹو کلیو، جس کے بارے میں بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ بیلسٹک میزائلز میں استعمال ہوسکتا ہے، وہ برآمدات پر کنٹرول اور عدم پھیلائو کے تحت نہ تو فوجی سازو سامان تھا اور نہ ہی دہرے استعمال کی چیز ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ چین ایک ذمہ دار ملک ہے اور بین الاقوامی عدم پھیلائو کی پابندیوں اور عالمی وعدوں کی پاسداری کرتا ہے۔
چینی حکومت کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ بحری جہاز کو چلانے والوں نے سچائی کےساتھ بھارتی حکام کو جہاز پر لدے سامان کے بارے میں آگاہ کیا تھا اس لیے اس میں کوئی چھپی ہوئی یا جھوٹ بات نہیں ہے۔
واضح رہے کہ بھارتی حکام نے چینی تجارتی بحری جہاز ایم وی ڈی اے سیو یون کو فروری کے اوائل میں دیندیال پورٹ پر حراست میں لیا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ اس میں آٹو کلیو موجود ہے جسے کارگو منشور میں غلط ظاہر کیا گیا۔
بھارتی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ آٹو کلیو میزائل بنانے میں استعمال ہوسکتا ہے۔
جس کے بعد فوجی ریسرچ اور ڈیولپمنٹ کرنے والی بھارت کی دفاعی تحقیق اور ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کی ایک ٹیم نے مشتبہ کارگو کا جائزہ لیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق بحری جہاز کے خلاف بھارت نے اقدامات ایک ’تیسرے ملک‘ کی فراہم کردہ خفیہ اطلاعات پر کیے۔