محکمہ فشریز بلوچستان نے اپنے افسران سمیت 17ملازمین کو نوکری سے برطرف کردیا۔
ملازمین پر بھتہ خوری اور بے قاعدگی کے الزمات تھے۔ ان کے خلاف 2018 سے محکمانہ کاروائی جاری تھا جواب برطرف کردیئے گئے۔
ملازمین میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز،دو فشریز آفیسر ز،دو فشریز انسپکٹرز سمیت 17ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کردیاگیا۔
محکمہ فشریز بلوچستان نے 2018میں شکایت پر اپنے افسران اور ملازمین کے خلاف انکوائری شروع کردی تھی۔انکوائری کے لیے افسران اور ملازمین کوئٹہ میں پیشی بھگت چکے ہیں۔
سیکرٹری فشریز بلوچستان شاہد سلیم کی دستخط سے جاری مراسلے میں محکمہ فشریز بلوچستان کے ملازمین پر کرپشن اور غلط کاریوں کے الزامات پر مزید کاروائی کرنے کا کہاگیاہے۔
گزشتہ روز سیکریٹری فشریز بلوچستان کے دستخط سے جاری مراسلے میں فشریز ملازمین کو انکی ملازمت سے برطرف کرنے کا حکمنامہ جاری کیا گیا۔
مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ فشریز کی جانب سے تحقیقات کو حتمی شکل دینے پر بلوچستان کے ملازمین کی استعداد اور ڈسپلین ایکٹ 2011 کے سیکشن 4 (1) (b) vii کے تحت کرپشن اور مس کنڈکٹ کے مرتکب ہونے پر پیروی کرنے والے افسران اور اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کرکے ان پر جرمانہ عائد کردیاگیا۔
برطرف کیے گئے ملازمین میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز عبدالرازاق،فشریز آفیسر عبدالواحد،فشریز آفیسر محمدیونس،انسپکٹر فشریز نور محمد، فشریز انسپکٹر صابر علی،اسسٹنٹ فشریز انسپکٹر عطاالرحمان،اسکیپر داد رحمان،علی اکبر،بوٹ انجینئر الھی بخش،آصف،عبدالکریم،نوید بخش،زاہد،حیدرعلی،محمدشفیق،غلام رسول،محمدطارق شامل ہیں۔