پشتونخوامیپ کے چیئرمین محمود خان اچکزئی شیرانی میں منعقدہ جلاسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پشتون افغان ملت کی قومی روایات کے تحت بدترین دشمنی میں بھی کسی کے گھرمیں گھس کر حملہ نہیں کیا جاتا لیکن پاکستان کے حکمرانوں نے ان تمام روایات کو پائمال کرتے ہوئے قومی رہنماء عثمان خان کے گھر میں گھس کر ان پر جان لیوا حملہ کیا ایسے حالات میں کسی بھی پشتون افغان کی جان ومال اورعزت اورناموس کی تحفظ کی کوئی ضمانت باقی نہیں رہی۔
پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری صوبائی صدر ملی اتل شہید محمد عثمان خان کاکڑ کی شہادت کے ملی سانحہ پر پارٹی کے احتجاجی مظاہروں اور جلسوں کے سلسلے میں ضلع شیرانی کے عوام کا احتجاجی مظاہرہ مانی خواہ سے سلیزہ تک ایک عظیم الشان جلوس کی صورت میں ہوا جس میں ملی شہید افغان شہید عثمان شہید عثمان شہید، ملی شہید کے قاتلان۔ ریاستی کے نعرے لگائے اور سلیازہ جنگل کے میدان میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلسہ عام کا انعقاد ہوا۔ جس سے پشتونخوامیپ کے چیئرمین محمود خان اچکزئی، پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رضا محمد رضا، خوشحال خان کاکڑ، خیبر پشتونخوا کے ایم پی اے میر کلام وزیر، سردار حنیف موسیٰ خیل اور ضلع شیرانی کے ضلعی سیکرٹری غلام الدین شیرانی نے خطاب کیا۔ جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض محمود شیرانی نے سرانجام دیئے اور تلاوت کلام پاک کی سعادت مولوی نجم الدین نے حاصل کی۔
محمود خان اچکزئی نے ملی شہید عثمان خان کاکڑ کے شہادت پر پارٹی کے احتجاجی تحریک میں ضلع شیرانی کے عوام کی بھرپور شرکت پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے وطنپال عوام نے شہید عثمان خان کی نماز جنازہ، فاتحہ خوانی اور احتجاجی تحریک میں اپنی بھرپورشرکت سے ثابت کیا کہ وہ پشتونخوامیپ اور پشتون قومی تحریک کے اس عظیم رہنماء کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قومی محکومی سے نجات پشتون افغان ملت کی قومی اتفاق واتحاد سے ہی ممکن ہوگا پشتونخوامیپ نے پشتونخواوطن کی ملی وحدت، متحدہ قومی صوبہ پشتونخوا کی تشکیل اپنے قومی وسائل پر قومی حق ملکیت اورآزاد جمہوری افغانستان کی آزادی، خودمختاری اور امن کے قیام اور ملک میں قوموں کی برابری اور عوام کی حکمرانی کیلئے آئین وقانون اور پارلیمنٹ کی بالادستی کا جو موقف پیش کیا ہے اگر اس میں اسلامی تعلیمات، ملکی آئین اور مسلمہ عالمی اصولوں کے خلاف کوئی بات غلط ہے تو ہمارے عوام ہماری اصلاح کریں۔ لیکن اگر ہمارا موقف صحیح اور برحق ہے تو ہم اپنے عوام سے قومی نجات کی تحریک میں بھر پور انداز سے حصہ لینے کی اپیل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشتون افغان ملت کی قومی روایات کے تحت بدترین دشمنی میں بھی کسی کے گھرمیں گھس کر حملہ نہیں کیا جاتا لیکن پاکستان کے حکمرانوں نے ان تمام روایات کو پائمال کرتے ہوئے قومی رہنماء عثمان خان کے گھر میں گھس کر ان پر جان لیوا حملہ کیا ایسے حالات میں کسی بھی پشتون افغان کی جان ومال اورعزت اورناموس کی تحفظ کی کوئی ضمانت باقی نہیں رہی۔
انہوں نے کہا کہ پشتون آپس کی دشمنیوں میں ہزاروں جوانوں کا خون بہاتے رہے ہیں اگر اس کا نصف حصہ بھی ہم اپنے قومی اور وطنی دفاع کیلئے قربان کرے تو دنیا کی کوئی طاقت اس بہادر ملت کو محکوم نہیں رکھ سکتی۔انہوں نے کہا کہ سائیں کمال خان شیرانی اور عبدالرحیم مندوخیل جیسے رہنماؤں کی رہنمائی میں پشتونخوامیپ نے جدوجہد کے تمام دوران میں دشمنوں کی تمام اشتعال انگیزیوں کے باوجود صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا۔ لیکن 90کی دہائی میں ہماری پارٹی پر دہشتگردی کی بدترین جنگ مسلط کی گئی جس میں ہمارے 100سے زائد ساتھی شہید کیئے گئے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جمہوری افغانستان اور ہمارے وطن میں گزشتہ چار دہائیوں سے عالمی تاریخ کی بدترین خونریزی جاری ہے جس میں لاکھوں بے گناہ افغانوں کا خون بہایا گیا ہے اور تاریخی افغانستان کی صدیوں میں تعمیر کردہ انفراسٹرکچر اور تہذیب وتمدن کا تمام سرمایہ خاک میں ملایا گیاہے۔یہ امر انتہائی افسوسنا ک ہے کہ عالم اسلام کے تمام ممالک نے قرآنی تعلیمات کے مطابق افغانستان کی امن کے قیام میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے تمام ممالک افغانستان کے عوام کے مقروض ہیں کیونکہ روس امریکہ اور ان کے اتحادیوں نے افغانستان کو عالمی جنگ کا میدان تو بنالیا لیکن افغانستان کی امن کی قیام کے بغیر واپس نکل گئے۔ لیکن ہم دنیا کے ممالک پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ افغانستان میں امن کی قیام کے بغیر دنیا میں امن کا قیام ممکن نہیں۔
انہوں نے افغان حکومت اور طالبان کے رہنماؤں سے دردمندانہ اپیل کی کہ وہ اپنے غیور افغان ملت پر رحم کرتے ہوئے امن کے قیام کو ممکن بنائیں۔
انہوں نے پاکستانی حکمرانوں کو خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ غیور عوام ان کے استعماری قبضے اور جبر کی حکمرانی کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کرینگے۔ پاکستان میں آباد پشتون افغان ملت کو 70سالوں میں ایک متحدہ اور بااختیار قومی صوبے کی قیام اور ملی تشخص کاحق حاصل نہیں ہوسکا ہے حالانکہ بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے صوبے اپنی قومی تشخض اور قومی وحدت کے ساتھ اس ملک میں قائم ہیں۔ حکمرانوں کی بے انصافی کا یہ عالم ہے کہ مشترکہ پشتون بلوچ صوبے کے ایک حصے کیلئے 800ارب روپے مختص کیئے جاتے ہیں جبکہ صوبے کی نصف پشتون آبادی کو زندگی کے تمام شعبوں میں یکسر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ملک اور صوبے کے نظام میں اگر بے انصافی ہو تو وہ ملک اور صوبہ قائم نہیں رہ سکتا۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی ملی شہیدمحمد عثمان کاکڑ کی شہادت کی احتجاجی تحریک کے مرحلے میں ہے لیکن ہماری اسمبلی میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے پارٹی رکن کی جانب سے ملی شہید کی شہادت کے حوالے سے صوبائی اسمبلی میں پیش کردہ قرار داد پر انتہائی ناروا رویہ اختیار کیا ہم ایسے عناصر پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ وہ پشتونخوامیپ کے گریبان سے اپنا ہاتھ نکالیں۔ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ قوموں کے خلاف ریاستی اداروں کے ہاتھوں استعمال ہونیوالوں کا انجام خود ان ریاستی اداروں کے ہاتھوں انتہائی عبرتناک ہوتا ہے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہماری احتجاجی تحریک کا ابتدائی مرحلہ ہے کہ ایف سی کے ایک نوجوان سپاہی کو پارٹی کے خلاف جاسوسی کرنے سے انکار پر انتہائی بے دردی سے شہید کیا گیا جس کی ناقابل تردید ثبوت اس نوجوان کا آڈیو پیغام ہے۔ جس میں انہوں نے کہا ہے کہ میں عثمان لالا جیسے شہادت قبول کرنے کیلئے تیار ہوں لیکن ان کی پارٹی کے خلاف جاسوسی کیلئے ہر گز تیار نہیں۔
انہوں نے کہاکہ علی وزیر وزیرستان کا منتخب ایم این اے اور وہاں کے عوام کا ہر دلعزیز رہنماء ہے ان کے خاندان کو پشتونوں میں عزت واحترام کا اہم مقام حاصل ہے لیکن ان سب کچھ کے باوجود علی وزیر کو ایک عرصے سے غیر قانونی طورپر جیل میں رکھا گیا ہے ہم ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اگر وہ رہا نہ کیئے گئے تو ہم علی وزیر کی رہائی کیلئے احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہونگے۔
انہوں نے پشتونوں پر واضح کیا کہ ہم سب کی عزت وبے عزتی شریک ہیں محکوم قوم کے علماء، خان وسردار،تاجر اور دانشور اس وقت تک باعزت نہیں ہوسکتا جب تک پشتون ایک قومی کی حیثیت سے اپنے وطن کے قومی واک واختیار کے مالک اور مقتدر نہ ہو۔ اس لیئے قومی محکومی کے خاتمے کیلئے پشتونوں کے ہر مکتبہ فکر کے نمائندوں کواپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ خداوند تعالیٰ نے پشتون افغان ملت کو ان تمام قدرتی نعمتوں سے نوازا ہے جن کا ذکر سورت رحمن میں موجود ہیں لیکن کروڑوں پشتون عوام دو وقت کی عزت کی روٹی سے محروم ہیں اور اپنے بچوں کی رزق کیلئے تمام قوم پردیس میں رزق حلال کی تلاش میں سرگردان ہیں۔ اگر اس غیور ملت نے اپنے محبوب وطن پر جدید عصر کی تقاضوں کے مطابق قومی سیاسی اقتدار قائم کیا تو عرب وانگریز جیسی قومیں بھی ہمارے وطن میں روزگار کرنے آئینگے۔