افغانستان کے شہر قندھار کے اطراف طالبان اور افغان فورسز کے درمیان جاری لڑائی کے باعث بھارت نے قندھار میں موجود اپنے قونصل خانے سے بھارتی عملہ وطن واپس بلا لیا ہے۔
جبکہ دوسری طرف طالبان کی طرف سے قندھار میں بھارتی قونصل خانے پر قبضے کی ایک ویڈیو جاری کردی گئی ہے۔
ویڈیو میں طالبان کو قندھار میں بھارتی قونصل خانے کے مختلف حصوں میں جاتے دیکھا جاسکتا ہے۔
ترجمان بھارتی وزارت خارجہ ارندام باغچی کا کہنا ہے کہ عملے کی واپسی حالات کے بہتر ہونے تک ایک وقتی اقدام ہے تاہم قندھار قونصل خانے کا مقامی عملہ کام کرتا رہیگا۔
خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق بھارتی حکام نے تصدیق کی ہے کہ قونصل خانے میں تعینات تمام اسٹاف کو وقتی طور پر بھارت واپس بلا لیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ افغانستان سے امریکہ اور اتحادی افواج کے انخلا کے دوران حالیہ دنوں میں طالبان کے حملوں میں شدت آئی ہے جب کہ جنگجو گروپ نے افغانستان کے کئی اضلاع پر قبضے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
اتوار کو بھارت کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان ارندم باگچی نے ایک بیان میں بتایا کہ قندھار کے اطراف میں شدید لڑائی کے باعث بھارت نے وقتی طور پر اپنا بھارتی اسٹاف واپس بلا لیا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ بھارت صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہے جب کہ فی الحال قونصل خانے کے اُمور افغان اسٹاف سرانجام دے گا۔
ارندم باگچی نے افغانستان میں تشدد کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں عدم استحکام کا براہِ راست اثر خطے کی مجموعی سیکیورٹی پر پڑتا ہے۔
بھارتی نشریاتی ادارے ‘این ڈی ٹی وی’ کی رپورٹ کے مطابق قندھار کے قونصل خانے سے لگ بھگ 50 اراکین پر مشتمل سفارتی عملے کو بھارتی ایئر فورس کے طیاروں کے ذریعے بھارت واپس بلایا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی ایئر فورس کے طیاروں نے بھارت واپسی پر پاکستان کی فضائی حدود کا استعمال نہیں کیا۔
بھارتی حکام نے منگل کو کہا تھا کہ کابل میں بھارتی سفارت خانہ بدستور کام کرتا رہے گا۔ البتہ بھارت نے افغانستان میں موجود اپنے شہریوں کو موجودہ صورتِ حال کے تناظر میں انتہائی احتیاط برتنے اور غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کی ہدایت کی تھی۔
بھارت نے کرونا وبا کے پیشِ نظر جلال آباد اور ہرات میں قائم اپنے قونصل خانے بند کر دیے تھے جب کہ قندھار اور مزار شریف میں اس کے قونصل خانے اب بھی فعال ہیں۔
طالبان نے جمعے کو دعویٰ کیا تھا کہ اُنہوں نے افغانستان کے 85 فی صد علاقے پر قبضہ کر لیا ہے جب کہ دیگر علاقوں کے کنٹرول کے لیے بھی پیش قدمی جاری ہے۔
البتہ، افغان حکام نے طالبان کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں محض پروپیگنڈا قرار دیا تھا۔