جبری لاپتہ افرادلواحقین کا احتجاج جاری، کیچ و پنجگور سے 4 افراد لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

جبری لاپتہ افرادلواحقین کا احتجاج جاری ہے جبکہ ضلع کیچ اورپنجگور سے 4 افراد کو فورسز نے جبری طور پرلاپتہ کردیا ہے۔

آمدہ اطلاعات کے مطابق ضلع پنجگور اور کیچ سے پاکستانی فورسز نے چار افراد کو حراست میں لینے کے بعد جبری طور پرلاپتہ کردیا ہے۔

پنجگور سے لاپتہ ہونے والوں کو گذشتہ روز گرمکان سے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا گیا ہے جنکی شناخت عادل، اس کے بھائی عمران اور عابد کے ناموں سے ہوئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان لوگوں کو گھر پہ چھاپہ مارکر حراست میں لے کر لاپتہ کردیا گیا ہے جبکہ اس دوران فورسز نے گھر میں موجود خواتین و بچوں کو شدید ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

اسی طرح گذشتہ روز فورسز نے کیچ کے مرکزی شہر تربت سے بلوچستان یونیورسٹی کے طالب علم شاکر کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا ہے۔

دریں اثنالاپتہ افرادلواحقین کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے۔

کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4372 دن مکمل ہوگئے۔ مستونگ سے سیاسی و سماجی کارکن عبدالستار بلوچ، زبیر بلوچ اور دیگر نے آکر اظہار یکجہتی کی۔

اس موقع پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں جبر اور ظلم کے خلاف جب آواز بلند کیا تو شروع شروع میں لوگ کم تعداد میں شریک ہوئے مگر جس طرح پاکستانی جبر برھتا گیا تو اس طرح لوگوں کی تعداد بھی بڑھتی گئی کئی لوگوں کو فورسز نے گرفتار کرکے لاپتہ کردیا جبکہ کئی کو شہید کرکے لاشیں ویرانوں اور جنگلوں میں پھینکی گئی جو سلسلہ تاحال جاری ہے۔

ماما کا مزید کہنا تھا بلوچستان میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ لوگوں کے جان و مال کے حفاظت کا جو ریاستی ایجنسیوں کے ہاتھوں محفوظ نہیں اور یہ ادارے جب چاہیے کسی بھی وقت لوگوں کو قتل کرتے ہیں یا لاپتہ کردیتے ہیں یہ سلسلہ بلوچستان میں کئی دہائیوں سے جاری ہے جو آج بھی اسی رفتار سے جاری ہے۔

ماما قدیر کا کہنا تھا ریاست اس جبر دانشتور، ڈاکٹر، وکیل اور کوئی محفوظ نہیں ہے جبکہ بلوچستان میں سینکڑوں تعداد میں وکیل دانشور اور ڈاکٹر ریاستی جبر کا نشانہ بن چکے ہیں اور وقت کا تقاضا یہی ہے کہ اس وقت بلوچ یکجہتی کا مظاہرہ کرکے اس جبر و ظلم کے اکٹھا جدوجہد کرے۔

Share This Article
Leave a Comment