بلوچ آزادی پسند رہنماؤں نے کہا ہے کہ قبضہ گیر کے لئے بلوچستان کوچھوڑنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔
بلوچ آزادی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ اوراختر ندیم بلوچ نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹیوٹر پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ بلوچستان کی تقدیر اس کی آزادی ہے۔
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے اپنے ٹیوٹ میں لکھا ہے کہ بلوچ قوم واضح طور پر پاکستان کے ساتھ کسی بھی بات چیت کو مسترد کرتی ہے۔ اگر پاکستان پر امن مذاکرات چاہتی ہے تو اسے بلوچستان سے اپنی فوج واپس لینا چاہئے اور بلوچ قوم کی خودمختاری کو قبول کرنا چاہئے۔
اختر ندیم بلوچ نے اپنے ٹیوٹس میں لکھا ہے کہ
بلوچ مسئلے کے بارے میں بات کرنے سے پہلے، پاکستان کے کٹھ پتلی وزیر اعظم عمران خان کو اپنے ڈور کھینچنے والوں سے مشورہ کرنا چاہئے تھا۔ کیونکہ اسکے آقا، جو بلوچ آزادی پسندوں کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، وہ صورتحال کو بخوبی جانتے ہیں۔ اپنے دورے کے دوران بلوچ ماہی گیروں کو روک لینا بلوچوں سے اپنے خوف کے اظہار کے لئے کافی ہے۔ بلوچستان کی تقدیر اس کی آزادی ہے۔ اور قبضہ گیر کے لئے بلوچستان کو رضامندی سے چھوڑنے کے سوا سب سے اچھا راستہ اور کوئی نہیں ہے۔