لالہ عثمان کاکڑ پر تشکیل دی گئی بلوچستان حکومت کی جوڈیشل کمیشن مسترد

ایڈمن
ایڈمن
9 Min Read

بلوچستان اسمبلی نے پشتونخوامیپ کے رہنماوسابق سینیٹر عثمان خان کاکڑ کی جمہوری و سیاسی خدمات کو خراج تحسین پیش کر نے کی تعزیتی قرار داد متفقہ طو رپر منظور کرلی۔

بلوچستان کے وزراء نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت نے عثمان خان کاکڑ کی موت کی تحقیقات کیلئے ان کی پارٹی قیادت کے کہنے پر جوڈیشل کمیشن قائم کیا۔اوربلوچستان حکومت نے اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں اب جن کے پاس ثبوت ہیں وہ کمیشن کے پاس جائیں،کسی کے خون پر سیاست نہ کی جائے۔

پشتونخوامیپ کے رکن اسمبلی نصر اللہ زیرے نے کہا کہ بلوچستان حکومت کے بنائے کمیشن کو ہماری پارٹی مسترد کرتی ہے، حکومت سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسی پر مشتمل کمیشن بنائے، قرار داد پر اظہار خیال کے دوران حکومتی اور اپوزیشن اراکین میں تند وتیز جملوں کا بھی تبادلہ ہوا، منگل کے روز بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 25منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر سردار بابر خان موسیٰ خیل کی زیر صدارت شروع ہوا۔

اجلاس میں پشتونخوا میپ کے نصراللہ زیرئے نے سابق سینیٹر عثمان خان کاکڑ کی خدمات سے متعلق تعزیتی قرار داد پیش کرنے کی استدعا کی ایوان کی رائے سے ڈپٹی سپیکر نے انہیں قرار داد پیش کرنے کی اجازت دی بعدازاں نصراللہ زیرئے نے تعزیتی قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایوان ملک کے عظیم سیاسی رہنماء پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری و صوبائی صدر شہید عثمان خان کاکڑ کی المناک شہادت کے سانحے کی مذمت کرتے ہوئے شہید رہنماء کی بیالیس سالہ سیاسی، جمہوری خدمات بالخصوص پشتونوں کے ساتھ ساتھ محکوم اقوام کے لئے بھرپور آواز بلند کرنے اور سینٹ میں موثر کردار ادا کرنے، ملک میں قوموں کی برابری، آئین وقانون کی بالادستی، جمہور و جمہوری اداروں کے استحکام، میڈیا و عدلیہ کی آزادی، بحالی جمہوریت کی تحریک ایم آر ڈی، پونم، پی ڈی ایم اور پشتونخوا رہبرموومنٹ میں پرافتخار کردار ادا کرنے اور خاص طو رپر ملک کے ایوان بالا میں چھ سال کے دوران ملک کے محکوم عوام کے لئے مثالی کردار ادا کیا۔

جس کی ملک کی پارلیمانی تاریخ میں مثال نہیں ملتی یہ ایوان شہید عثمان خان کاکڑ کو ان کی سیاسی وجمہوری خدمات پر زبردست خراج عقیدت پیش کرتا ہے ان کی شہادت کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کی جائیں۔قرار داد کی موزونیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے نصراللہ زیرئے نے عثمان خان کاکڑ کو ان کی سیاسی و جمہوری جدوجہد پر زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید عثمان کاکڑ نے زمانہ طالبعلمی سے ہی پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا پشتونخوا ایس او کے پہلے مرکزی سیکرٹری اول منتخب ہوئے پھر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری، صوبائی صدر اور آخرمیں مرکزی سیکرٹری کے عہدے پر رہ کر بھرپور سیاسی جدوجہد کی انہوں نے ملک میں بحالی جمہوریت کی ہر تحریک میں فعال کردار ادا کیا۔

جب وہ سینٹ کے رکن منتخب ہوئے تو انہوں نے نہ صرف پشتون قوم بلکہ ملک کی تمام محکوم قوموں کی آواز بلند کی حیات بلوچ کی شہادت، بلوچ مسنگ پرسنز، ساہیوال واقعے سمیت سندھ کے مظلوم عوام اور فاٹا کے عوام کی آواز بنے خیبرپشتونخوا میں دہشت گردی کا شکار ہونے والے لوگوں کے لئے آواز بلند کی علی وزیر کے خاندان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے اور نقیب اللہ محسود کی شہادت پر آواز بلند کی وہ ایک حقیقی عوامی رہنماء تھے جو بلاشبہ اکیسویں صدی کے بڑے رہنماؤں میں شمار ہوں گے 16جون کو جب بلوچستان اسمبلی کے باہر اپوزیشن ارکان احتجاج کررہے تھے تو انہوں نے یہاں آکر خطاب کیا اگلے روز ان کو ان کے گھر میں سرپر کاری ضرب لگائی گئی ڈاکٹروں کے مطابق ان کو یہ ضرب لگائی گئی تھی دو دن تک کوئٹہ میں وینٹی لیٹر پر رہنے کے بعد انہیں کراچی منتقل کیاگیا۔

انہوں نے کہا کہ جہاں اکیس جون کو وہ شہید ہوئے ان کی شہادت کے اعلان پر پورے ملک سمیت پوری دنیا میں جمہوری تحریکیں اور جمہوریت پسند عوام سوگوار ہوئے جب کراچی سے ان کی میت کوئٹہ کے لئے روانہ ہوئی تو حب سے کوئٹہ تک شہرشہرقریہ قریہ سیاسی جماعتوں اور عوام نے ان کاشاندار استقبال کیا پشتونخوا ملی عوامی پارٹی بلوچستان نیشنل پارٹی نیشنل پارٹی جمعیت علماء اسلام سمیت ان تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کاشکریہ ادا کرتی ہے جنہوں نے ایک بڑے رہنماء کی میت کا تاریخی استقبال کیا 23جون کو جب کوئٹہ سے مسلم باغ کے لئے روانہ ہوئے تو کچلاک پہنچنے میں چار گھنٹے لگے اور بمشکل شام کو مسلم باغ پہنچے میڈیا کے مطابق عثمان کاکڑ کا جنازہ ملک کی تاریخ کا بڑا جنازہ تھا اس ایوان کے توسط سے ہم شہید رہنماء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

ان کی موت کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن کا قیام تو عمل میں لایاگیا ہے لیکن اکثر کمیشنوں کی رپورٹ سامنے نہیں آتیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ شہید عثمان خان کاکڑ کی شہادت کی تحقیقات سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل کمیشن سے کرایا جائے۔پارٹی چیئر مین محمودخان اچکزئی نے واضح طو رپر کہا ہے کہ اگر کوئی حقیقی تحقیقاتی کمیٹی بنتی ہے تو اسے ثبوت دینے کے لئے تیار ہیں۔

صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عثمان خان کاکڑ کو ہم خراج عقیدت پیش کرتے ہیں تاہم انہی کے لوگوں کے کہنے پر صوبائی حکومت نے بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے ہائیکورٹ کے ججز پر مشتمل کمیشن کے قیام کی استدعا کی تھی جس پر ہائیکورٹ کے دو معزز جج صاحبان پر مشتمل کمیشن کا قیام عمل میں لایاگیا ہے۔

جس سے ہماری حکومت کی نیک نیتی واضح ہوتی ہے وزیراعلیٰ نے مسلم باغ جا کر سوگوار خاندان سے تعزیت کی ہم سب سوگوار خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں جہاں تک قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل کمیشن کے قیام کا مطالبہ ہے یہ صوبائی حکومت کے دائرہ کار سے باہر ہے صوبائی حکومت چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ سے استدعا کرسکتی تھی جو ہم نے کی اب جن کے پاس ثبوت ہیں وہ کمیشن کے پاس جائیں ہماری گزارش ہے کہ کمیشن پر اعتماد کیا جائے۔

سابق وزیراعلیٰ نواب محمد اسلم رئیسانی نے کہا کہ نصراللہ زیرئے نے اپنی پارٹی کی جانب سے قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل کمیشن کے قیام کی خواہش کااظہار کیا ہے جس کی ہم حمایت کرتے ہیں صوبائی وزیر پی ایچ ای نور محمد دمڑ نے کہا کہ عثمان خان کاکڑ کے انتقال پر سب کو دکھ ہوا ہے تعزیتی قرار داد سے اتفاق کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کا جمہوری حق ہے کہ وہ تحقیقات کی بات کریں معاملہ سب کے سامنے ہے عثمان خان کاکڑ کے واقعے کے بعد متنازعہ بیانات سامنے آئے یقینی طو رپر عثمان کاکڑ صوبے کے پشتون بیلٹ سمیت پورے صوبے کے بڑے لیڈر تھے ان کی موت پر سب غمزدہ ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment