افغانستان میں ترکی کو امریکا کی معاونت درکار ہوگی،ایردگان بائیڈن مابین ملاقات

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ امریکی ہم منصب جو بائیڈن سے ملاقات کے دوران افغانستان میں ترکی کے کردار پر بات چیت ہوئی ہے۔

بیلجئم کے شہر برسلز میں نیٹو سربراہان اجلاس کے موقع پر امریکی صدر جو بائیڈن اور ترک ہم منصب رجب طیب ایردوان کے درمیان ملاقات ہوئی ہے۔

ترک صدر کے مطابق اس ملاقات کے دوران افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد کابل انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی سیکیورٹی کی ذمہ داریاں ترکی کے حوالے کیے جانے کے معاملے پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان میں افواج کی موجودگی برقرار رکھنی ہے تو ترکی کو امریکہ کی طرف سے سفارتی، لاجسٹک اور مالی تعاون کی ضرورت ہو گی۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق نیٹو کے سربراہ ینز اسٹولٹرنبرگ نے بھی کہا ہے کہ ترکی افغانستان میں اہم کردار ادا کرے گا، لیکن نیٹو اجلاس کے دوران اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

امریکی تھنک ٹینک سے وابستہ سینئر تجزیہ کار ہینری بارکی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ترکی افغانستان میں خدمات کے عوض امریکہ اور نیٹو کی حمایت حاصل کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ خیر سگالی کے طور پر افغانستان میں خدمات کے لیے خود کو پیش کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے رہنماؤں نے ملاقات کے دوران پیچیدہ مسائل پر زیادہ وقت صرف نہیں کیا۔

البتہ صدر بائیڈن اور رجب طیب ایردوان نے پیر کو ہونے والی اس بالمشافہ ملاقات کو ‘نتیجہ خیز’ قرار دیا ہے۔ تاہم، انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کسی بڑی پیش رفت کا اعلان نہیں کیا۔

ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے بتایا کہ ترک ہم منصب سے ہونے والی گفتگو ‘مثبت اور نتیجہ خیز’ تھی اور وہ پرامید ہیں کہ ترکی کے ساتھ تعلقات میں حقیقی کامیابی حاصل کریں گے۔

دوسری جانب ترک صدر نے امریکی ہم منصب سے ہونے والی ملاقات کو ‘مخلصانہ اور نتیجہ خیز’ قرار دیا۔

ان کے بقول، ”میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ اور ترکی کے درمیان ایسا کوئی مسئلہ نہیں جسے حل نہ کیا جا سکے۔ ہمارے درمیان موجود مسائل کے مقابلے میں تعاون کی راہیں کہیں زیادہ ہیں۔”

یاد رہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات ایسے موقع پر ہوئی ہے جب روس سے ہتھیاروں کی خریداری سمیت شام اور لیبیا کے معاملات پر نیٹو کے دونوں اتحادی ملکوں کے درمیان تناو? پایا جاتا ہے۔

امریکہ نے گزشتہ برس دسمبر میں روسی ساختہ ہتھیار کی خریداری کے بعد ترکی پر پابندیاں عائد کر دی تھیں اور حال ہی میں صدر بائیڈن نے ترکی کو انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

رواں برس اپریل میں صدر بائیڈن نے سلطنتِ عثمانیہ کے دور میں آرمینیا کے لگ بھگ 15 لاکھ باشندوں کے قتل کو نسل کشی قرار دیا تھا۔ ترکی اس قتلِ عام کو نسل کشی قرار دینے کی تردید کرتا ہے۔

رجب طیب ایردوان نے کہا کہ صدر بائیڈن سے ہونے والی 45 منٹ کی ملاقات کے دوران آرمینیا کے معاملے پر بات چیت نہیں ہوئی۔

ترکی کی جانب سے روس سے ایس 400 میزائل ڈیفنس سسٹم کی خریداری کے معاملے پر رجب طیب ایردوان نے بتایا کہ اس معاملے پر انہوں نے صدر بائیڈن کو وہی کچھ کہا ہے جو وہ پہلے کہتے آئے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment