کم برآمدات اور توقع سے زائد درآمدات کی وجہ سے ایک سال قبل کے مقابلے پاکستان کا مرچنڈائز تجارتی خسارہ مئی میں 134 فیصد بڑھ گیا۔
مئی 2021 میں ماہانہ خسارہ 3 ارب 43 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا جو ایک سال قبل ایک ارب 46 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تھا اور خدشات بڑھ رہے ہیں کہ حکومت کو بیرونی اکاؤنٹ کنٹرول کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوگا۔
روپے کے لحاظ سے تجارتی خسارے میں سالانہ بنیادوں پر 125.2 فیصد اضافہ ہوا۔
گزشتہ برس دسمبر کے مہینے سے تجارتی خسارے میں اضافہ جاری ہے اور اس کی بڑی وجہ ملک میں درآمدات میں بڑا اضافہ جبکہ اس کے مقابلے نسبتاً سست برآمداتی عمل ہے۔
مالی سال 21-2020 کے 10 ماہ یعنی جولائی تا مئی 2021 تجارتی خسارہ 29.5 فیصد بڑھ کر 27 ارب 27 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک جاپہنچا، جبکہ گزشتہ برس یہ خسارہ 21 ارب 6 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تھا۔
مالی سال 2020 میں ملک کا تجارتی خسارہ 31 ارب 82 کروڑ ڈالر سے کم ہو کر 23 ارب 9 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہ گیا تھا، یہ سطح رواں مالی سال کے 10 ماہ کے عرصے میں پہلے ہی عبور ہوچکی ہے جو بڑھتی ہوئی درآمدات کے سبب بیرونی جانب سنگین دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔
ملکی درآمدات کا بل مئی 2021 میں 77.8 فیصد بڑھ کر 5 ارب 9 کروڑ ڈالر تک جاپہنچا جو گزشتہ برس کے اسی عرصے میں 2 ارب 86 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تھا۔
ماہانہ بنیادوں پر درآمداتی بل میں 3.23 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اسی طرح مالی سال 2021 میں جولائی سے لے کر مئی تک درآمدات کا بل 22 فیصد بڑھ کر 49 ارب 83 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک جاپہنچا، جو گزشتہ برس کے اسی عرصے میں 40 ارب 86 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھا۔
درآمداتی بل میں اس اضافے کی بڑی وجہ پیٹرولیم مصنوعات، گندم، چینی، سویابین، مشینری، خام مال، کیمیکلز، موبائل فونز، کھاد، ٹائرز، اینٹی بائیوٹکس اور ویکسین کی درآمد ہے۔
گزشتہ ماہ ڈیوٹی فری امپورٹ میں سالانہ بنیاد پر 73.78 فیصد اور ڈیوٹی کے ساتھ درآمدات میں 94.84 فیصد اضافہ ہوا۔
یہ واضح کرتا ہے کہ ڈیوٹی فری درآمدات میں اضافے کی بڑی وجہ زیادہ تر خام مال اور نیم تیار مصنوعات ہے جس کو گزشتہ برس کے بجٹ میں ڈیوٹیز اور ٹیکس سے استثنیٰ دے دیا گیا تھا۔
ترسیلات زر میں اضافہ درآمدی بل کی ادائیگی کے لیے کافی ہوگا لیکن خیال ہے کہ مالی سال 2021 میں جون کے اختتام تک کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 4 سے 6 ارب ڈالر تک رہے گا۔