ایٹمی تابکاری کے اثرات,بلوچستان بنا قتل گاہ – تحریر ۔۔۔ ڈاکٹر جلال بلوچ

0
448

(ہمیں قتل گاہوں کی سیر کرانا ہی اس کا مقصد ہے)

یہ مضمون پہلے بھی سنگر میں شائع ہوا ہے،28 مئی کی مناسبت سے اسے ایک بار پھر شائع کیا جا رہا ہے

پاکستان کے ایٹمی دھماکے ان کا پسِ منظر کیا تھا یا وہ وجوہات تھیں جن کی بنا پاکستان نے ۸۲ مئی ۸۹۹۱ء کو بیک وقت پانچ ایٹمی دھماکے کیے، بلوچ قوم ان دھماکوں کے بعد کس کرب سے گزری اور دنیا پہ اس کے اثرات کے اثرات مرتب ہوئے؟۔اس مضمون میں ہم انہی موضوعات کاجائزہ لینے کی کوشش کرینگے۔

پاکستان کے جوہری پروگرام کا تاریخی پسِ منظر:۔
بی بی سی اردومیں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق انیس سو چون کی بات ہے جب اس زمانے کے پاکستانی وزیراعظم محمد علی بوگرہ نے وہائیٹ ہاوس میں امریکی صدر آئزن ہاور سے ملاقات کی تھی اور پاکستان نے امریکہ کے ایٹم برائے امن (ایٹم فار پیس) کے منصوبہ میں شمولیت کے ساتھ جوہری توانائی کے شعبہ میں تحقیق اور ترقی کے لیے جوہری توانائی کمیشن کے قیام کا اعلان کیا تھا۔
ایٹمی طاقت حاصل کرنے کے لیے یہی پاکستان کا پہلا قدم تھاجس نے آگے چل کر مئی ۸۹۹۱ء میں اپنے اس منصوبے کی تکمیل کے ساتھ بلوچ عوام پہ قہر الہٰی نازک کی۔
اسی سال یعنی ۴۵۹۱ء میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان دو انتہائی اہم فوجی معاہدوں ”سینٹو اور سیٹو”پہ دستخط ہوئے جن کی توسط سے امریکہ پاکستان کو روایتی اسلحہ فروخت کریگا اور اس کے بدلے پاکستان امریکہ کو اپنے ملک میں فوجی اڈے قائم کرنے میں تعاون کریگا۔
یہ عجیب بات ہے جب ساٹھ کی دہائی میں ہندوستان جوہری تجربات کی تیاریوں میں مصروف تھا تو پاکستان نے کھلے عام ایٹمی تجربات سے انکار کردیا تھا۔ اور دوسری جانب بی بی سی اردو کے اس رپورٹ میں جو کہ انٹرنیٹ پہ دستیاب ہے۔اس میں واضح الفاظ میں اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ پاکستان جوہری پروگرام کے حوالے سے کافی سرگرم تھا لیکن چند ایک عناصر امریکی دباؤ کے تحت اس پروگرام کے حق میں نہیں تھے۔ حالنکہ ۴۵۹۱ء میں محمد علی بوگرہ نے امریکی صدر کے ساتھ ہونے والے ملاقات میں جوہری توانائی کے پروگرام کا اعلان کیا تھا۔ لیکن جوہری تجربہ (ایٹمی دھماکہ) کی بات نہیں ہوئی تھی۔ اس حقیقت سے انکار بھی نہیں کہ دنیا کی طاقت اور بین الاقوامی ادارے ایسے تجربوں کی ہمیشہ مخالفت کرتے آرہے ہیں اسی لیے سرِ عام ایسامعاہدہ کرنا ممکن نہیں تھا ہاں البتہ جوہری توانائی کا امریکی عندیہ ہی اس بات کی نشاندہی کے لیے کافی ہے کہ امریکہ کی رضا اس پروگرام میں شامل تھا۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جہاں ایک جانب سرد جنگ اپنے عروج پہ تھی جہاں دنیا دوحصوں میں تقسیم ہوچکا تھا ایک جانب سوشلزم کے حامی ریاستیں اور دوسری جانب سرمایہ دارانہ نظام کے حامل ممالک تھے۔ انہی دنوں سویت یونین افغانستان میں بڑے ترقیاتی منصوبوں کو عملی شکل دینے کی کوشش کررہی تھی۔جس سے امریکہ کو یہ خوف لاحق ہوگیا کہ اگر افغانستان نے سویت یونین کے ان معاہدوں کو عملی شکل دی تو ممکن ہے کہ سویت یونین گرم پانیوں تک آسانی سے رسائی حاصل کرلے جس کی وہ زارانِ روس کے دور سے کوششیں کررہی ہے۔لہذا سویت یونین کو روکنے کے لیے اس خطے میں پاکستان ہی ایک ایسا ریاست تھا جس کا وجود ہی اسی بنیاد پہ عمل میں لایاگیا تھا۔ اسی لیے کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ کی مکمل رضامندی اس میں شامل تھی البتہ ریاستوں کی وہ پالیسیاں جو عوام کی نظروں سے ہمیشہ اُجھل رہتی ہیں یہ پروگرام بھی انہی کا ایک حصہ تھا۔


دوسری بات بھارت جو کہ دنیا کی دوسری بڑی منڈی اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔وہاں بھی جوہری پروگرام کے حوالے سے سرگرمی پائی جاتی تھی۔بھارت چونکہ مغرب کے استحصالی نظام کی وجہ سے کافی عرصے تک ظلم کی چکی میں پِس چکا تھا لہذا مغرب بھارت کو کبھی بھی قابل اعتماد ساتھی تصور نہیں کرسکتا۔ انہیں یہ ڈر تھا کہ اگر بھارت اس خطے میں طاقت حاصل کر لے گا تو ممکن ہے کہ وہ اپنے اس ٹکڑے کو جو پاکستان کے نام سے الگ ہوگیا تھا دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ مغرب کے اس تصور سے کہ اگر بھارت نے دوبارہ عظیم بھارت کی تشکیل کی کوشش کی تو اس سے مغرب کے مفادات جو کہ اس خطے سے انہیں حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا بلکہ یہ ممکن ہے کہ بھارت اور سویت یونین اس عمل میں ایک ہی سیج پہ ہوں۔لہذا بھارت کو روکنے کے لیے مغرب کی مکمل لیکن پسِ پردہ تعاون پاکستان کو اس کے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے حاصل رہا۔
بات پھر آئیگی کہامریکہ نے آنے والے دنوں میں اس کی مخالفت کیوں کی؟ دراصل ان دنوں امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے اور امریکہ نے پاکستان کی بجائے بھارت کو اہمیت دی تھی جہاں ۵۶ء کی جنگ میں امریکہ نے پاکستا ن کو کسی قسم کی کمک بھی نہیں دی یا پاکستان امریکہ کے علاوہ دیگر ملکوں سے جیسے فرانس نے ۸۶ء میں جب پاکستان کو ”ایٹمی ری پراسسنگ پلانٹ” کی پیش کی۔حالنکہ اس دور کے پاکستانی صدر نے اس کی مخالفت کی تھی۔ لیکن اس سے ایک بات ظاہر ہوتی ہے کہ فرانس نے جب پاکستان کو پیش کش کی تو اسے یہ یقین تھا کہ پاکستان اس عمل کے قریب پہنچ چکا ہے۔ جیسے بعد میں جب بھٹو کا دورِ اقتدار آیا تو اس نے فرانس کو اس پروجیکٹ میں تعاون کی پیشکش کی۔اور اس مد میں مالی امداد کے لیے بھٹو نے اسلامی ممالک کا ہنگامی دورہ بھی کیا۔ جہاں ۳۷۹۱ء میں بھٹو نے امریکی دباؤ کے باوجود ایٹمی پروگرام کا آغاز کیا۔اور اس پروگرام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے انہوں نے سابقہ ٹیم کو معطل کیا اور ان کی جگہ ڈاکٹر قدیر خان کو جو ان دنوں ہالینڈ میں تھے بلالیا۔
بھٹو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکے کیونکہ اس دور تک پاکستان یورینیم اس مقدار میں ذخیرہ نہیں کرسکا تھا جو اس پروجیکٹ کے لیے کافی تھے۔ اور دوسری بات کے بھٹو کو اس دور کے امریکہ وزیرخارجہ کسینجر نے واضح دھمکی بھی دی تھی کہ اگر انہوں نے اس پروگرام پہ عمل کیا تو وہ خود ہی نہیں رہینگے۔ بھٹو اور امریکہ کے تعلقات دراصل اس وجہ سے خراب ہوگئے تھے کہ بھٹو اسلامی دنیا کو ایک بلاک میں لانے کا حامی تھا اور اس حوالے سے پاکستان ہی ان کا رہنما بن سکتا تھا۔ امریکہ جانتا تھا کہ اگر پاکستان کی رسائی اتنے ممالک تک ممکن ہوا تو وہ ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔ امریکہ نے جس کے ساتھ ۴۵۹۱ء میں جوہری پروگرام کا اعلان کیا گیا تھااور ان دنوں امریکہ نے اس کی مخالفت بھی نہیں کی تھی لیکن ان دنوں اس کی مخالفت پہ اتر آیا تھا اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ امریکہ براہ راست پاکستان کو اپنے ماتحت رکھنا چاہتا تھا جو وہ آج تک کرتا چلا آرہا ہے۔بھٹو چونکہ سویت یونین سے کوئی بد بھیڑ نہیں چاہتاتھا اس سے امریکہ کا یہ خوف مزید بڑھ گیا کہ سویت یونین اس خطے پہ کنٹرول حاصل نہ کرلے۔یہی وجہ ہے کہ جب ۷۷۹۱ء میں بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تو امریکہ نے کوئی مخالفت نہیں کی باوجود اس کے کہ ایک فوجی آمر نے جمہوری نظام کا خاتمہ کردیا تھا۔


اب امریکہ کی مخالفت ہمیں نظر نہیں آتی جہاں ضیا ء نے اس پروگرام کو جاری رکھنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کردی تھی۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مطابق پاکستان ۴۸۹۱ء میں جوہری بم بنانے کی صلاحیت حاصل کرچکا تھا۔ یہ وہ دور تھا جہاں افغانستان امریکہ اور پاکستان کی وجہ سے تباہی کے دہانے پہ پہنچ چکا تھا۔جس سے امریکہ اور مغرب کا وہ دیرینہ مقصد جس میں روس کو گرم پانیوں تک رسائی سے روکنا تھا حاصل کرلیا تھا۔ یہی وجہ سے کہ امریکہ نے کبھی بھی پاکستان کے اس پروگرام کی مخالفت نہیں کی کیونکہ پاکستان ان کے مفادات کی تکمیل کے لیے ایک کارآمد ساتھی تھا۔ ان دنوں پاکستان نے ایٹمی تجربات اس لیے بھی نہیں کیے کہ ایک جانب اس کاروایتی حریف کھل بھارت اس جانب کوئی قدم نہیں اٹھا رہا تھا اور دوسری جانب سویت یونین کے خلاف پاکستان اور امریکہ کی جنگ۔ جہاں امریکہ اور پاکستان دونوں کو یہ خوف لاحق تھا کہ اگر پاکستان نے ایٹمی تجربات کیے تو ممکن ہے کہ دنیا کی ہمدردی سویت یونین کے ساتھ ہوں اسی لیے اس پروگرام کو عملی شکل دینے سے پاکستان گریز کرتا رہا۔ اور اس کے چودہ سال بعد ۸۲ مئی ۸۹۹۱ء کو بلوچستان کو دوزخ کی آگ میں دھکیل کر پاکستان نے یہ غیرمہذب اقدام کیا۔
بلوچ قوم پہ اثرات:۔
ایٹمی تابکاری کے اثرات انتہائی مہلک ہوتے ہیں اس حوالے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزر کا ایک اہم رکن ڈاکٹر پاؤلو ایم بوس کا کہنا ہے کہ” ایسے تمام جانوروں کو ہلاک کردیے جائیں جن کے بارے میں شبہ ہو کے وہ تابکاری سے متاثر ہوئے ہیں۔تمام پودے اور نباتات جو تابکاری جذب کر چکے ہیں اور اس علاقے کی مچھلی وغیرہ بھی اسی زمرے میں آتی ہے۔تابکاری کی پیمائش کی جائے اور جہاں تابکاری صفر ہوجائے وہاں سے اس پورے علاقے کے گرد ایک حصار قائم کردیا جائے۔تاکہ تابکاری سے متاثرہ علاقے کے جانوروں کا گوشت، دودھ،مچھلی، پھل اور سبزیاں وغیرہ ہر قسم کی کھانے پینے سے متعلقہ اشیاء کسی بھی صورت انسانی غذا ء میں شامل نہ ہو سکیں۔”
اس ایک پیراگراف سے اندزاہ ہوتا ہے کہ ایٹمی تابکاری کے اثرات کتنے مہلک ہوسکتے ہیں۔ اس حوالے ڈاکٹر پاؤلو ایم بوس کا مزید کہنا ہے کہ”جو لوگ تابکاری سے متاثر ہوچکے ہوں انہیں اگلے پانچ سے دس سال تک اور بعض صورتوں میں اس سے بھی زیادہ عرصے تک ڈاکٹروں کی متواتر دیکھ بھال میں رہنا ہوگا۔” (ڈاکٹر پاؤلوایم بوس نے یہ معلومات جاپان کے ایٹمی پلانٹ میں حادثے کے بعد یکجا ء کی)۔

ان کے علاوہ امراض جن میں کینسر، رسولی، سانس کی بیماری، معذور بچوں کی پیدائش، حمل کا ضیاع، بانجھ پن وغیرہ شامل ہیں۔یہ امراض اگر ایک ترقی یافتہ ملک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے تو پاکستان جیساغیر ترقی یافتہ ملک کیسے ان سے محفوظ رہ سکتا ہے اور دوسری بات کہ پاکستان کا ہمیشہ سے بلوچستان کے ساتھ امتیازی رویہ رہاہے تو وہ کیوں ان محکوموں کے لیے حفاظتی تدابیر کا سوچ سکتا ہے جنہیں ۸۴۹۱ء سے آج تک قتل گاہوں کی سیر کراتا آرہا ہے۔ ۸۲مئی ۸۹۹۱ء کا دن بلوچ تاریخ میں ایک سیاہ دن کے طور پر جانا جاتا ہے جہاں پاکستان نے لاکھوں بلوچوں کونہ صرف موذی بیماریوں میں مبتلا کرنے کا اہتمام کیابلکہ ان کی سماجی اور معاشی زندگی کو بھی یکسر خاک میں ملا دیا۔یہ حالات جو بلوچوں پہ صُورِ اسرافیل کی طرح نازل ہواجہاں ان کے لیے اپنی گلزمین جہنم کی تصویر پیش کرنے لگا۔ یہ حالات بلوچوں پہ ۸۲مئی ۸۹۹۱ء میں اس وقت نازل کی گئی جب پاکستان نے چاغی راسکوہ میں یکے بعد دیگرے پانچ ایٹمی دھماکے کیے۔ان دھماکوں کی وجہ سے راسکوہ کا سیاسی پہاڑی سلسلہ کا رنگ لمحوں میں سفیدی مائل ہوگیا۔ اگر یہ دھماکے سنگلاخ چٹانوں کا رنگ بدل سکتا ہے تو اس میں گوشت پوست کے بناانسان کس قدر متاثر ہوسکتا ہے اس کا اندازہ لگانا کوئی مشکل امر نہیں۔ اس حوالے سے ماہرین کاکہنا ہے کہ ایٹمی تابکاری کے اثرات ایک بڑے خطے کے افراد کو متاثر کرتی ہیں جہاں معتدد بیماریاں پھیلتی ہیں۔کیونکہ اس قسم کے تجربات سے ریڈیائی ذرات فضاء میں پھیلتے ہیں جو سانس لینے کے دوران بدن میں شامل ہوکر جسم کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔یہ نہ صرف اس علاقے کے لوگوں کو متاثر کرتے ہیں بلکہ اس کے اثرات ہزاروں میل دور تک پھیل سکتے ہیں۔ان بیماریوں میں کینسر، سانس کی بیماریاں اور زچگی اہم ہیں۔ انسانوں کے علاوہ تابکاری سے زراعت اور مال مویشی جو کہ بلوچوں کا سب سے بڑا ذریعہ معاش ہے شدید متاثر ہوئے۔جہاں ایک اندازے کے مطابق چاغی اور خاران سے ہزاروں خاندانوں نے مہاجرت کی۔ اور اب تک ان کی ایک بہت بڑی آبادی بلوچستان کے مختلف شہروں میں آباد ہیں۔ تابکاری کا ایک اور اثر جو کہ دنیا دیکھ چکی ہے وہ موسم کا متاثر ہونا۔بلوچستان میں بھی ۸۹۹۱ء میں ہونے والے دھماکوں کے بعد مسلسل سات سال تک خشک سالی رہا۔ یہ خشک سالی فقط چاغی میں نہیں بلکہ پورا بلوچستان اس سے متاثر ہوا۔مجید زہیر بادینی اپنے مضمون ”بلوچستان تاریخ کے آئینے میں ”میں رقم طراز ہے کہ بین الاقوامی ادارے کے ایک اہلکار نصراللہ بڑیچ نے بتایا کہ” پانی کی شدی قلت کی وجہ سے چاغی کا چالیس فیصد عوام نے علاقے سے ہجرت کرنا شروع کیا”۔ یہ ایک حقیقت ہے ان دنوں نصراللہ بڑیچ ”آکسفام ”نامی ایک بین الاقوامی اادارے کا ذمہ دار اہلکار تھا جہاں وہ متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے چاغی میں کام کررہاتھا۔ ان دھماکوں کے چند ماہ بعد بلوچستان میں رہنے والوں کی معیشت کا سب سے بڑا ذریعہ جو کہ مال مویشی تھا شیدید متاثر ہوا۔ان دنوں بلوچستان پورے پاکستان کا ۷۵ فیصد مال مویشی کی ضروریات پوری کرتا تھا۔لیکن ایٹمی دھماکوں کے بعد یہ ریشو آنے والے چند سالوں میں ۷۴ فیصد کی سطح تک آ پہنچا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تابکاری کی وجہ سے معیشت کا یہ ذریہ کس حد تک متاثر ہواہوگا۔ بلوچستان میں معیشت کے یہ دو اہم ذرائع زراعت اور گلہ جن کے متاثر ہونے کے واضح ثبوت موجود ہیں جہاں ایک جانب ان علاقوں کے ہی نہیں بلکہ دور دراز کے بہت سارے علاقوں میں کاریزات اور چشمے خشک ہوتے گئے۔ پانی کی سطح کے گرنے سے ٹیوب ویلوں جہاں اور جن علاقوں میں یہ نظام موجود تھا شدید متاثر ہوا۔اور اوپر سے ان دھماکوں کی وجہ سے ماحولیاتی تبدیلی جس کی وجہ سے سات سال تک مسلسل بارشوں کا نہ ہونا عوامی زندگی کو بری طرح جھنجوڑ دیا تھا۔ اس سارے عمل میں اگر ہم بلوچ سیاست کو دیکھیں تو ان پہ مراعات کا بھوت اس قدر سوار تھا کہ انہوں نے بلوچستان کو مذبح خانے میں دھکیلنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ جسکا ثبوت اس وقت کابلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کا چاغی تک نوازشریف کی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھالنا تھا جہاں انہوں ان دنوں کی یاد تازہ کردی جب بلوچ سرداروں نے انگریزوں کی بھگی کھینچی تھی۔ ۸۲ مئی ۸۹۹۱ء کو سردار اختر مینگل نے بھی تاریخ دہرائی لیکن اس وقت نگہبان انگریز کی بجائے انگریزوں کا ”لے پالک”(نوازشریف) تھا۔ جب کہ دیگر سیاستدان بھی مراعات کے شوق میں کسی بھی مرحلے پہ پاکستان کی اس بلوچ کش پروگرام کی مخالفت نہیں کی۔

پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے خطے کے دیگر ممالک پہ اثرات:۔


پاکستان نے جب ایٹمی دھماکے کیے تو اس وقت اس خطے میں چائنا، روس اوربھارت ایٹمی طاقت حاصل کرچکے تھے۔ لیکن اس کے بعد اس دوڑ میں شمالی کوریا اور ایران بھی شامل ہونے کی کوششیں کرتے رہے اور اس بات سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا کہ ان ممالک کو پاکستان کی مکمل رہنمائی حاصل تھی۔کیونکہ شمالی کوریا اور ایرانی حکام سے روابط کی وجہ سے ہی ڈاکٹر قدیر خان پہ الزامات لگے تھے جہاں وہ ایک بڑے عرصے تک نظر بند رہا۔ان حالات میں وہ ممالک اپنے عوام کی بجائے دفاعی نظام پہ سرمایہ کاری کرتے رہے جس سے اس پورے خطے میں عوام کا معیارِ زندگی پستی کی جانب سفر کرتا رہا اور آج تک وہ انہی حالات سے گزرہے ہیں۔دوسری بات ایٹمی حصول کی وجہ سے دنیا میں ایران اور شمالی کوریا کے حالات اور اس حوالے سے ان ممالک اور مغرب کی خارجہ پالیسیوں سے ایسا لگتا ہے کہ دنیا ایک بڑی جنگ کی جانب بڑھ رہی ہے۔اور نہ جانے یہ طبل جنگ کب بجے اوریہ آفت ناگہانی بن کے کس وقت دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیں۔
بلوچ عوام پہ کیا گزری انہی کی زبانی:۔
۱۔ محمدنور جوچھتر کے پہاڑی سلسلہ میں رہائش پذیر تھا۔ان دھماکوں کے بعد وہ ”ریکو ”نوشکی ہجرت کرگیا۔ان کا کہنا تھاکہ
”اُس وقت جب دھماکے ہوئے تو اس کی وجہ ہمارے علاقے میں جاری چشمہ جو کہ صدیوں تک ہمارا ذریعہ معاش تھا۔ اس میں سیاہی مائل ذرات شامل تھے۔۔اس پانی کے پینے سے ہمارے لوگوں کے منہ سے خون کے قطرے رسنے لگے اور شدید الٹیاں ہونے لگی۔اسی وجہ سے ہم وہاں سے نقل مکانی کرنے پہ مجبور ہوگئے۔ ان کے علاوہ ان دھماکوں سے پہلے ہماری خواتین زچگی کے دوران کبھی ہسپتال نہیں گئے تھے کیونکہ انہیں اس دوران اتنی بڑی تکالیف کا سامنا ہی نہیں کرنا پڑتا تھا۔ لیکن ان دھماکوں کے بعد حمل کے دوران بہت سی خواتین کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔”
۲۔عبدالقادر علاقہ ”مالدین”راسکوہ کا رہائشی ہے۔ ان کے مطابق ”ان دھماکوں کے کچھ ہی عرصے بعد امراضِ چشم زیادہ ہونے لگی حالنکہ اس سے قبل علاقے کا کوئی مکین اس مرض میں مبتلا نہیں تھا۔ امراضِ چشم میں آنکھوں کے موتیوں کے علاوہ شب کوری کی بیماری بھی عام ہونے لگی اور آج تک ہمارے علاقے میں بہت سارے لوگ اس بیماری میں مبتلا ہے۔”
۳۔۔اسماعیل بلوچ جو کہ خاران شہر کا رہائشی ہے۔ان کاکہنا ہے کہ ”امراضِ چشم کی بیماری شدت اختیار کرگئی۔آج بھی خاران کے آنکھوں کے ہسپتال میں ہزاروں کی تعداد میں مریضوں کا علاج ہوچکا ہے۔ان امراض میں آنکھوں کی موتیاں قابلِ ذکر ہے۔ حالنکہ اس علاقے میں اس سے قبل ہمارے لوگ اس بیماری کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔”
۴۔کمال بلوچ جو کہ خاران کا رہنے والا ہے ان کا کہنا ہے کہ” ان دنوں میں نو عمر تھا لیکن میں وہ واقعہ کبھی بھول نہیں سکتا جب میری دادی جو کہ اس وقت ۰۵ سال کی ہوگی اچا ہی آنکھوں کی مرض میں مبتلا ہوگئی جس کی وجہ سے اس کی آنکھوں کی بینائی شدید متاثر ہوئی۔”
۵۔۔۔ راسکوہ کا ایک رہائشی علی جان سیاہ پاد کا کہنا ہے تھا کہ” ایٹمی دھماکوں کے بعد انسانی امراض نے تو علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمارئے کجھور کے باغات بھی خشک ہونا شروع ہوئے اور آنے والے دو سالوں میں وہ فقط درختوں کی خشک ٹہنیاء ہی ہماری میراث بن گئی۔”
۵۔نوشکی کا رہائشی عبداللہ کا کہنا ہے کہ ایک دل خراش واقعے کی گواہی میں دیتا ہوں۔”جہاں ایک فرد نے اپنے ایک بچے کی جان بچانے کے لیے دوسرے بچے کو فقط ۰۲ روپے میں فروخت کرنے پہ مجبور ہوا۔”
۶۔اس بات کی گواہی آج بلوچستان کا ہر فرددیتا ہے کہ قحط اور تابکاری اثرات کی وجہ سے لوگوں کا سب سے بڑا ذریعہ معاش ما ل داری بری طرح متاثر ہوئی۔اس زمانے میں لوگوں نے مال مویشیوں کو کوڑیوں کے دام فروخت کرنا شروع کیا جہاں ۰۰۰۵ سے ۰۰۰۶روپے والے جانور کی قیمت ۰۰۱ سے ۰۰۲ روپے تھی۔
۷۔ ابراہیم جو کہ چاغی کا رہائشی ہے۔کہہ رہاتھا کہ” آج بھی اگر چاغی،خاران اورخاص کرراسکوہ کا دورہ کیا جائے تو وہاں ان معذوروں کی کمی نہیں جو ان دھماکوں کے بعد پیدا ہوگئے تھے۔”
۸۔۔ چاغی کا ایک رہائشی سلام بلوچ کہتا ہے کہ” ان دھماکوں کی وجہ سے بہت سارے انسانی امراض کے ساتھ ہمارے علاقے کے چشمے بھی خشک ہوگئے تھے جس کی وجہ چاغی اور اس کے گرد و نواع سے ایک بڑی آبادی مہاجرت کرنے پہ مجبور ہوا۔اس کے علاوہ آج بھی وہ علاقہ بری طرح متاثر ہے جہاں پانی کی سطح جو کہ ان دونوں ۵۱ سے ۰۲ فٹ تھا آج ۰۰۱ فٹ سے زیادہ نیچے چلا گیا ہے اور تابکاری ہی کی وجہ سے فصل کی مقدار بھی گھٹ گئی ہے۔”سلام بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ آج تک ہم تابکاری کے اثرات کا بری طرح شکار ہیں جہاں گزشتہ تین مہینوں میں چاغی کے رہائشیوں کے ۰۵۵ سے زائد” اپینڈکس ” کے اپریشن کوئٹہ میں ہوئے ہیں ”
۹۔نال بلوچستان کا رہائشی ظفر بلو چ نے اس حوالے سے کہا کہ”قحط کے دنوں میں خاران سے بہت سارے خاندان ہمارے علاقے کی جانب بھی مہاجرت کرچکے تھے۔ ایک دن میں نال ندی کے دوسری جانب چلاگیا تو وہاں دیکھتا ہوں کہ بہت سارے جانوروں کے دھانچے جن میں اونٹ اور بھیڑ بکریاں شامل تھے بکھرے پڑے تھے۔ میں نے وہاں کے ایک بزرگ سے اس حوالے سے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ ایٹمی دھماکوں کے بعد جو یہ قحط آئی ہے یہ اسی کی دین ہے۔”
یہ تو فقط چند لوگوں کی رائے ہے۔
اگر بین الاقوامی ادارے اس جانب توجہ دیں تو یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی تابکاری کے اثرات نے بلوچ قوم کو جاپانی شہر فوکوشیماء کے عوام سے زیادہ متاثر کیا ہے۔وہاں تو تابکاری کے اثرات کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے گئے لیکن بلوچستان میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جہاں پاکستان نے اس جانب کوئی مثبت قدم اٹھایا ہو۔انسانیت کے دشمن ان پاکستانیوں کو تو تکبیر ہی بلند کرنا تھا جیسے کہ وہ دشمن کے خلاف جہاد کے میدان میں انہیں قتل کرنے نکلے ہوں۔ ان کے اس یوم ِ تکبیر نام کی مناسبت سے مجھے ایک عالمِ دین کے وہ الفاظ یاد آئیں جب انہوں نے جمعہ کی نماز کے دوران اپنی تقریر میں فرمایاتھا۔کہ
”نام ہی اس بات کی نشاندہی کے لیے کافی ہے کہ بلوچستان کو قربانی کا جانور سمجھ کر تکبیر دے دیا گیا” یہ الفاظ ہیں مشہور بلوچ عالمِ دین مولانا عبدالعزیز صاحب کے جو ان دنوں کوئٹہ کے علاقے ایریگشن کالونی کے جامعہ مسجد میں پیش امام تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here