پاکستانی فوج نے جاوید ہاشمی کی بیٹی وداماد کے گھرو شادی ہالزمسمار کردیئے

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید ہاشمی نے پاکستانی فوج پر الزام عائد کیا ہے کہ ان کی بیٹی اور داماد کے شادی ہالز کو گرا دیا گیا ہے جبکہ انتظامیہ نے کہا کہ غیر قانونی تعمیرات گرائی جارہی ہیں۔

جاوید ہاشمی نے کہا کہ ملتان میں آبائی گاؤں مخدوم رشید میں پولیس بھاری نفری کے ساتھ تعمیرات گرانے پہنچی۔

محکمہ اوقاف کا کہنا تھا کہ شادی ہال کی دیوار گرا دی ہیں۔

جاوید ہاشمی نے کہا کہ میرے دیہات کے گھروں کو گرانے کے لیے انتظامیہ پہنچی، سیکڑوں پولیس اہلکار اور گاڑیاں میرے گھر گرا رہے ہیں اور میں خود گرفتاری پیش کرنے گاؤں جارہا ہوں۔

دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن شروع کیا ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) صدر عدنان بدر نے بیان میں کہا کہ مخدوم رشید کے موضع گھڑیالہ میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے غیر قانون طور پر تعمیر کیے گئے شادی ہالز مسمار کر دیے گئے۔

بعد ازاں جاوید ہاشمی نے سماجی روابط ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ‘پولیس نے میرے گھروں کو گھیر لیا ہے اور گرانا شروع کر دیا ہے، میں اپنی گرفتاری پیش کرنے جا رہا ہوں، پوچھنے پر وجہ بھی نہیں بتا رہے’۔

انہوں نے کہا کہ‘بغیر کسی وجہ کے ہمارے گھروں کو کیوں گرایا جا رہا ہے، ہمیں ہمارے گھروں میں محبوس کر دیا گیا ہے’۔

جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ‘میری بیٹی سابقہ رکن قومی اسمبلی میمونہ ہاشمی کے گھر اور اسکول کو گرا دیا گیا ہے، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا، ان کے خاوند اور میرے داماد زاہد بہار ہاشمی کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا گیا’۔

رہنما مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ‘ووٹ کو عزت ملنے تک اپنی جنگ سے کبھی پیچھے نہیں ہٹوں گا’۔

انہوں نے کہا کہ‘3 گھنٹے ہو چکے ہیں ہم محاصرے میں ہیں، ہمارے گھر جانے والی تینوں سڑکیں بند ہیں، ہمیں کوئی وجہ بھی نہیں بتاتا کہ کیوں گرا رہے ہیں ’۔

ٹوئٹر پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ‘گھر، اسکول اور شادی ہال کے بعد اب ہمارے کنٹرول شیڈ، فیکٹریوں کو بھی مسمار کیا جا رہا ہے، ریاستی جبر کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے’۔

محکمہ اوقاف کی زمین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ‘یہ زمین اوقاف کی زمین سے آدھا میل دور ہے، میرا گھر موضع گھڑیالا میں ہے جبکہ اوقاف کی زمین موضع مخدوم رشید میں ہے’۔

جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ‘اگر اوقاف کا ایک انچ بھی میرے پاس ہے تو بغیر کسی حیل و حجت کے خود کو آپ کے حوالے کر دوں گا’۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں جاوید ہاشمی کے ساتھ اظہار یک جہتی کی۔

مریم نواز نے کہا کہ‘جاوید ہاشمی صاحب کی چادر اور چار دیواری پر حملہ ایک نیچ حرکت ہے، گھٹیا سوچ اور ذہنیت کی عکاس ہے جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں ’۔

انہوں نے کہا کہ‘جو چاہے کر لو، وقت بدل رہا ہے، اس وقت سے ڈرو جب اپنے بچاؤ کے لیے تمھارے پاس حکومت اور حکومتی طاقت نہیں رہے گی، ان شااللہ فتح حق اور سچ کی ہوگی’۔

خیال رہے کہ جاوید ہاشمی مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما ہیں اور ان کی بیٹی 2013 کے انتخابات سے قبل مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی تھی۔

جاوید ہاشمی نے 2013 کے انتخابات سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں شمولیت کی تھی اور قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے تاہم 2014 کے دھرنے کے موقع پر پارٹی سربراہ عمران خان سے مخالفت کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا۔

بعد ازاں 2018 کے انتخابات سے قبل دوبارہ مسلم لیگ (ن) میں واپسی کی تھی اور انہیں ملتان سے ٹکٹ نہیں دیا گیا تھا، وہ نواز شریف کے مؤقف کی کھل کر حمایت کرتے ہیں اور سخت بیانات دیتے ہیں اور حکومت پر شدید تنقید کرتے ہیں۔

گذشتہ روز انہوں نے سیاست میں پاکستانی فوج خاص کر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی بے جا مداخلت پر شدید تنقید کی تھی اور سوشل میڈیا پر اپنے طویل ویڈیو کانفرنس میں کہا تھا کہ جلد عوام کا ہاتھ جنرل باجوہ کے گریبان تک ہوگا اور لوگ اسے روڈ پر گھسیٹیں گے۔

فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اس سخت ویڈیوکانفرنس کے جاری ہونے کے بعد جاوید ہاشمی کے کیخلاف فوجی کی جانب سے انتقامی کارروائیوں کا آغاز ہوا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment