بھارتی صحافی اور سینئر اینکر روہت سردانا کی کورونا وبا سے موت ہوگئی ہے۔
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 41 سالہ روہت سردانا کی موت پر صحافتی اور سیاسی حلقوق کی جانب سے گہرے رنج کا اظہار کیا گیا۔
روہت سردانا نیوز چینل ‘آج تک’ کے ساتھ وابستہ تھے اور ‘دنگل’ نامی پروگرام کی میزبانی کرتے تھے جس میں سیاسی اور معاشرتی معاملات پر سنجیدہ بحث و مباحثوں کے حوالے سے مشہور تھا۔
اس سے قبل وہ زی نیوز کے ساتھ وابستہ رہے اور ایک سیاسی پروگرام کے اینکر پرسن تھے۔
انہیں حکومت نے 2018 میں گنیش شنکر ودیارتی پورسکر سے نوازا تھا۔
روہت سردانا کا کووڈ 19 کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد وہ ہسپتال میں رہے اور اس دران دل کا دورہ پڑنے سے ان کی موت واقع ہوئی۔
ان کے سوگواران میں اہلیہ، دو بیٹیاں اور والدین ہیں۔
روہیت سردانا کی کورونا سے موت پر شعبہ صحافت اور سیاسی حلقوں کی جانب سے اظہار تعزیت کے پیغامات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ ‘روہت سردانا جلد ہی ہمیں چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوگئے’۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ توانائی سے بھرپور نوجوان تھے اور بھارت کی ترقی کے لیے ہمیشہ پرجوش رہتے تھے۔
نریندرمودی نے کہا کہ روہت سردانا ایک نرم دل مزاج انسان تھے اور ان کی کمی بہت سارے لوگ محسوس کریں گے۔
بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی موت سے میڈیا کی دنیا میں ایک بہت بڑا خلل پڑ گیا ہے۔
بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے روہت سردانا کی موت پر کہا کہ بھارت نے ایک بہادر صحافی کھو دیا جو ہمیشہ غیر جانبدارانہ اور منصفانہ رپورٹنگ کے لیے پہنچانا جاتا تھا۔
انہوں نے روہت سردانا کے اہل خانہ سے ان کی موت پر اظہار تعزیت کیا۔
سینئر بھارتی صحافی اور نیوز چینل ‘انڈیا ٹوڈے’ سے وابستہ راہول کنول نے اپنے ساتھی کو خراج عقیدت پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ روہت سردانا سے ملاقات رہی وہ ایک ایک ذہین نوجوان اینکر تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں ہندی پر ابھر تھا اور اپنی باری پر بہترین جملوں کا انتخاب اور ٹھیک سوالات کرتے تھے۔
راہول کنول نے کہا کہ وہ اپنی واضح سوچ کی وجہ سے عوام میں بہت حد مقبول تھے۔
انہوں نے کہا کہ روہت سردانا کی موت سے ہمارا نیوز روم گہرے صدمہ میں ہے۔