بلوچ آزادی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹیوٹر پر اپنے ٹیوٹ کے سیریز میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ
پاکستان آرمی شروع سے ہی بلوچ آزادی کی تحریک کے خلاف کرایے کے فوجی استعمال کررہی ہے۔ ہزاروں بلوچوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ اب فوج انہیں سیاسی اداروں کی شکل میں تبدیل کررہی ہے۔
شفیق مینگل اور نیشنل پارٹی کے اسلم بزنجو جیسے سرغنہ گذشتہ انتخابات میں اتحادی تھے جب کہ بلوچ آزادی پسندوں نے حکومت کے حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈ کو بے نقاب کردیا، اور ان کے متاثرین کی اجتماعی لاشیں بلوچستان کے مختلف مقامات پر دریافت کی گئیں۔
بلوچستان کی کٹھ پتلی حکومت نے ان کرائے کے قاتلوں کی مدد کی ہے۔ وہ خاص طور پر قابل نوجوانوں کو ہلاک اور غائب کررہے ہیں۔ ہم یو این اور عالمی طاقتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بدمعاش فوج اور اس کے کرایے کے قاتلوں کے ذریعہ ہونے والی بلوچ نسل کشی کو روکنے میں مدد کریں۔ ساؤتھ ایشین پریس کی نئی تحقیقاتی رپورٹ دنیا کے لئے چشم کشا ہے۔