پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کی قرارداد آج قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی جبکہ تحریک لبیک ملک بھر سے دھرنے ختم کرے گی۔
ٹوئٹر پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ’حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد یہ بات طے پا گئی ہے کہ آج قومی اسمبلی میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کی قرارداد پیش کریں گے اور تحریک لبیک مسجد رحمت العٰلمین سمیت سارے ملک سے دھرنے ختم کرے گی۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’بات چیت اور مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھایا جائے گا اور جن لوگوں کےخلاف شیڈول فورتھ سمیت مقدمات درج ہیں، ان کا اخراج کیا جائے گا۔‘
وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ وہ اس سے متعلق تفصیلی بیان آج شام یا کل دوپہر کسی وقت پریس کانفرس کے ذریعے دیں گے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان کی مرکزی شوریٰ کے رکن اور جماعت کی طرف سے حکومت سے مذاکرات کرنے والے ڈاکٹر محمد شفیق امینی نے پیر کی رات اپنے ایک آڈیو پیغام میں ملک بھر میں اپنے پیروکاروں سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ صرف لاہور میں ان کے مرکز رحمت العٰلمین میں پر امن احتجاج جاری رہے گا۔
واضح رہے کہ حال ہی میں کالعدم قرار دی جانے والی مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان، پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکوں کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کی ملک سے بے دخلی کے مطالبے پر احتجاج کر رہی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والی شاہراہ پر فیض آباد کے مقام پر رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری ابھی بھی تعینات ہے جبکہ دارالحکومت کے حساس مقامات پر بھی پولیس اہلکار تعینات ہیں۔
فیض آباد پل کے نیچے مرکزی شاہراہ کے اطراف میں کنٹینرز بھی تاحال رکھے ہوئے ہیں۔ انتظامیہ انھیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے راستے سیل کرنے میں استعمال کر رہی ہے۔
تحریکِ لبیک کے کارکنوں پر پولیس کے کریک ڈاو¿ن کے خلاف اہلسنت علما کی کال پر پیر کے روز ملک بھر میں شٹر ڈاو¿ن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان بھی کیا گیا تھا جس کا بڑے شہروں میں جزوی اثر دکھائی دیا۔
اس سے قبل پیر کی شام قوم سے خطاب میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ فرانس کے سفیر کو ملک سے نکال دینا مسئلے کا حل نہیں کیونکہ مغرب اس معاملے کو اظہارِ رائے کی آزادی سے جوڑتا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’جب بھی نبی کی شان میں گستاخی ہوتی ہے تو ہمیں تکلیف ہوتی ہے، جہاں بھی مسلمان بستے ہیں ان سب کو تکلیف ہوتی ہے۔‘
عمران خان نے اس معاملے میں دیگر مسلمان ممالک کے ردعمل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 50 مسلمان ملک میں سے کوئی بھی یہ مطالبہ نہیں کر رہا کہ فرانس کے سفیر کو واپس بھجوایا جائے۔
عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے سے فرانس کو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن اس اقدام سے پاکستان متاثر ہوگا۔
پیر کی صبح اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھی پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ انھیں افسوس ہے کہ ملک میں چند عناصر پاکستانیوں کی پیغمرِ اسلام کے لیے عقیدت اور محبت کا غلط استعمال کر کے اپنے ہی ملک میں فساد پھیلا رہے ہیں۔
وزیراعظم نے ملکی صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کا اور ان کی حکومت کا یکساں مقصد ہے کہ ’نبی کی شان میں گستاخی نہ ہو‘ تاہم انھوں نے وضاحت کی کہ طریقہ کار کا فرق ہے۔