بارڈر ٹریڈ ایکشن کمیٹی اورتربت سول سوسائٹی کی جانب سے ایرانی بارڈر کی بندش کے خلاف منگل کو علی الصبح ڈی بلوچ کے مقام پر سی پیک شاہراہ بلاک کیاگیا۔
سی پیک شاہراہ کی بندش سے تربت گوادر،کراچی، تربت مند ایران ٹریفک معطل رہی اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
مظاہرین نے گوکدان ڈی بلوچ پر خیمہ لگاکر دھرنا دیا۔
انہوں نے کہاکہ ایرانی بارڈرکی بندش سے عوام شدید مشکلات وپریشانیوں کے شکارہیں، بارڈرپر لوگوں کو اپنے بچوں کاپیٹ پالنے کیلئے تیل کے کاروبارکی اجازت دی جائے۔ بارڈربندش کی وجہ سے بڑے پیمانے پر لوگ ایرانی سرحد پر پھنسے ہوئے ہیں انہیں آنے دیاجائے،کئی دنوں سے لوگ بھوکے پیاسے ہیں ان کیلئے خوراک وپانی کامناسب انتظام کیاجائے۔
ڈپٹی کمشنرکیچ حسین جان بلوچ نے ڈی بلوچ گوکدان جاکر مظاہرین سے مذاکرات کئے اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے مطالبات جلد حل کئے جائیں گے اس سلسلے میں انہیں مہلت دی جائے تاکہ متعلقہ حکام سے بات چیت کرکے کوئی حل نکالا جاسکے۔
مذاکرات میں بارڈر ٹریڈ ایکشن کمیٹی کے رہنما محمد اسلم شمبے زئی اور تربت سول سوسائٹی کے کنوینر گلزار دوست شریک تھے۔
ڈی سی کیچ سے مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد مظاہرین نے احتجاج ختم کرکے سی پیک شاہراہ ٹریفک کیلئے کھول دی گئی۔