بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجرگہرام بلوچ نے تربت میں ریاستی آلہ کار سمیر سبزل کے ٹھکانہ پر دستی بم حملہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ کل شب ساڑھے نو بجے سرمچاروں نے تربت سنگانی سر میں ریاستی آلہ کار سمیر سبزل کے ٹھکانہ پر دستی حملہ کیا۔
سمیر سبزل اور اس کی گینگ کے کارندے ریاستی سرپرستی میں کئی سماجی جرائم کا ارتکاب کررہے ہیں لیکن قابض ریاست کیلئے بلوچوں کی مخبری کرنے کے عوض اسے چوری و ڈکیتی سمیت ہر قسم کے جرائم کی چھوٹ دی گئی ہے۔ کئی مقدمات میں سمیر اور اس کے ساتھیوں کے خلاف ٹھوس ثبوتوں اور ان سے اسلحہ برآمدگی کے باوجود وہ عدالتوں سے بری ہوکر جیل سے چھوٹ جاتاہے۔
یاد رہے گزشتہ سال تربت میں محترمہ ملک ناز بلوچ کے بہیمانہ قتل اور معصوم برمش کو زخمی کرنے کے مقدمہ میں سمیر سبزل مرکزی ملزم تھا مگر ریاستی سرپرستی کی وجہ سے وہ مقدمہ میں الزام جرم سے بری کردیاگیا۔سمیر سبزل اور اس کے تمام ساتھی اور معاون کار ہمارے نشانے پر ہیں۔ ہم انہیں کسی بھی وقت نشانہ بنا سکتے ہیں۔ لہٰذا بلوچ قوم سے اپیل ہے کہ ان عناصر سے دور رہیں۔