تمام زون شہدائے مرگاپ کی یاد میں ریفرنس اور یاد گاری پروگراموں کا انعقاد کریں۔ بی این ایم

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے تمام زونوں کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ شہدائے مرگاپ کی یاد میں ریفرنس اور یاد گاری پروگراموں کا انعقاد کریں۔ شہدائے مرگاپ شہید چیئرمین غلام محمد بلوچ، شہید لالا منیربلوچ اورشہید شیر محمد بلوچ کی شہادت کے بارویں برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کریں۔ اس حوالے سے ایک آن لائن اجلاس کا انعقاد کیا جائے گا۔

یہ ہمارے لئے تجدید عہد کا دن ہے۔ یہ دن ہمیں پاکستانی قبضہ گیریت کے خلاف جدوجہد کو مزید منظم اور تیز کرنے کی تلقین دیتا ہے۔ بی این ایم کے کارکن جدید دور کے تقاضوں کو پوری کرنے کیلئے شہید غلام محمد بلوچ کی تعلیمات کی روشنی میں آگاہی پروگرام تشکیل دیں۔

ترجمان نے کہا واجہ غلام محمد بلوچ، لالا منیر بلوچ اور شیر محمد بلوچ کی شہادت نے بلوچ قومی تحریک کو ایک نئی جہت بخشی۔ پاکستان کی جانب سے ”مارو اور پھینکو“ پالیسی کے باقاعدہ آغاز کے بعد مرگاپ کے مقام پر واجہ غلام محمد اور ساتھیوں اور اس کے بعدکئی بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں ملیں۔ ان شہادتوں سے قومی تحریک آزادی کو توانائی اورعوامی جذبوں کو ایک بلندی حاصل ہوگئی ہے۔ دشمن نے اس ردعمل کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ تین اپریل 2009 کو پاکستانی فورسز نے واجہ غلام محمد کو ساتھیوں سمیت تربت شہر میں ان کے وکیل کچکول علی ایڈوکیٹ کے دفتر سے لوگوں کی نظروں کے سامنے حراست میں لیا۔ دوران حراست انہیں انسانیت سوز اذیت دیکر شہید کیا گیا۔ نو اپریل 2009  کو ان کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں۔ یہیں سے پاکستان کی جانب سے ’’مارو اور پھینکو‘‘ پالیسی کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ ہزاروں بلوچ فرزند اس بربریت و درندگی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ یہ ظلم و بربریت آج بھی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ نو اپریل کو ہم چیئرمین غلام محمد اور ان کے عظیم ساتھیوں کو یاد کرینگے۔ ان کی تعلیمات بلوچ عوام تک پہنچانے کی کوشش جاری رکھیں گے۔ ہرکارکن کا فرض ہے کہ وہ چیئرمین شہید کی تعلیمات سے استفادہ کرے اور ان پر عمل پیرا ہو کر ان کے نقش قدم پر چلے۔

ترجمان نے کہا کہ چیئرمین غلام محمد کی بارہویں برسی کے موقع پر نو اپریل کو سوشل میڈیا میں ایک آن لائن کمپئین چلائی جائے گی۔ اس میں#MartyrsOfMurgaap کاہیش ٹیگ استعمال کرکے اپنے عظیم رہنماؤ ں کو خراج عقیدت پیش کریں۔ 

Share This Article
Leave a Comment