امن معاہدے کے بغیرامریکی افواج کے انخلاسے طالبان افغانستان پردوبارہ قبضہ کرسکتے ہیں،رپورٹ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

امریکی خفیہ اداروں نے جوبائیڈن حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ اگر امریکی فوجی دستوں کو متحارب فریقین کے مابین اقتدار تقسیم کرنے کے معاہدے کے بغیر واپس بلایا گیا تو 2 سے 3 سال کے عرصے میں طالبان افغانستان کے زیادہ تر حصوں پر قبضہ کرسکتے ہیں۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس قسم کے ٹیک اوور سے افغانستان میں القاعدہ کو دوبارہ منظم ہونے میں مدد ملے گی۔

امریکی صدر جو بائیڈن اس بات کا فیصلہ کررہے ہیں کہ کیا ساڑھے 3 ہزار امریکی فوجیوں کے انخلا کے لیے یکم مئی کی ڈیڈ لائن پر عمل کیا جائے جو ان کے پیش رو ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس فروری میں طالبان کے ساتھ معاہدے میں طے کی تھی۔

امریکا اخبار نے لکھا کہ کچھ امریکی عہدیداران جو کہ افغانستان میں امریکی فوجی رکھنے کے حامی ہے وہ خفیہ اداروں کی رپورٹ کو استعمال کر کے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ فوجیوں کو ڈیڈ لائن کے بعد بھی افغانستان میں موجود ہونا چاہیے۔

مذکورہ رپورٹ پر وائٹ ہاو¿س کی جانب سے کسی قسم کے تبصرے سے انکار کیا گیا۔

یہ کلاسیفائیڈ انٹیلی جنس جائزہ گزشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

دوسری جانب جو بائیڈن نے بھی وائٹ ہاو¿س میں اپنے پہلی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ فوجیوں کے انخلا کی ڈیڈ لائن پر عمل کرنا انتہائی مشکل ہے جس کے لیے اتحادی افواج کے بھی 7 ہزار فوجیوں کا انخلا درکار ہے۔

ساتھ ہی جو بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ اگلے برس امریکی فوجیوں کی ملک میں موجودگی کا ‘تصور نہیں کرسکتے’۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment