افغان طالبان نے امریکی صدر جو بائیڈن کے تازہ بیان کے بعد ردعمل میں انہیں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان سے فوجی انخلا میں ناکامی کی صورت میں سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
خبر ایجنسی ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ‘امریکا کو دوحہ معاہدے کے مطابق اپنا قبضہ ختم کر لینا چاہیے’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘امریکا کو افغانستان سے یکم مئی تک اپنی فورسز کا مکمل انخلا کرنا چاہیے’۔
ذیبح اللہ مجاہد نے کہا کہ ‘اگر وہ کسی بھی وجہ اور عذر کی وجہ سے ایسا نہیں کر پائے تو پھر وہ نتائج کے ذمہ دار ہوں گے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘افغانستان کے لوگ اپنا فیصلہ کریں گے’۔
طالبان نے گزشتہ ماہ بھی کہا تھا کہ افغان حکومت اور اس کے مغربی اتحادی گزشتہ برس طے پانے والے معاہدے پر عمل نہیں کر رہے جن میں قیدیوں کی رہائی اور غیر ملکی افواج کی بے دخلی شامل ہے۔
دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ایک سینئر رکن نے کہا تھا کہ قطری دارالحکومت میں بین الافغان بات چیت کے آغاز کے 3 ماہ میں تمام طالبان قیدیوں کو رہا کیا جانا تھا، لیکن 5 ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اب تک ایک بھی قیدی رہا نہیں ہوا۔
طالبان عہدیدار نے کہا تھا کہ امریکی حکومت کے ساتھ معاہدہ ہے اور ہم ان سے معاہدے کی پاسداری کی توقع کرتے ہیں۔
امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کی انتظامیہ نے جنوری میں صدارت سنبھالنے کے بعد کہا تھا کہ فروری 2020 میں ہونے والے دوحہ معاہدے پر نظرثانی کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ 29 فروری 2020 کو امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدے میں بین الافغان مذاکرات طے پائے تھے، اس وقت اس معاہدے کو 19 سال سے جاری جنگ میں امن کا بہتری موقع قرار دیا گیا تھا۔
ابتدائی طور پر یہ توقع کی جارہی تھی کہ معاہدے کے چند ہفتوں بعد ہی بین الافغان مذاکرات کا آغاز ہوجائے گا، تاہم شروع سے ہی اس ٹائم لائن میں تاخیر کے باعث خلل پڑنا شروع ہوگیا تھا۔
امریکا کے ساتھ ہوئے طالبان کے معاہدے سے قبل ہی یہ طے کیا گیا تھا کہ افغان حکومت 5 ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرے گی جبکہ طالبان بدلے میں ایک ہزار حکومتی اور عسکری اہلکاروں کو اپنی حراست سے چھوڑیں گے، تاہم اس میں مسائل کا سامنا رہا اور افغان حکومت اس سے گریز کرتی نظر آئی۔