بلوچستان میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے اور مثبت کیسز کی شرح 1.5فیصدسے بڑھ کر3.4 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان میں بھی عالمی وبا کورونا کی تیسری لہر کے دوران مثبت کیسز کی شرح میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آرہاہے ، اس صورت حال میں نہ تو شہری ایس او پیز پر عملدرآمد کرتے نظر آتے ہیں اور نہ ہی بلوچستان حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی خاطر خواہ کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے۔
دوسری جانب اسی حوالے سے بلوچستان حکومت کا مو¿قف ہے کہ کورونا کی تیسری لہر نے ابھی تک بلوچستان کو زیادہ متاثر نہیں کیا ہے لیکن کورونا کے کیسز میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا ہے، کورونا کی تیسری لہر کے پیش نظرطبی انتظامات مزید بہتر کیے گئے ہیں۔
ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے کہ کورونا کی پہلی اور دوسری لہر کے دوران جانی نقصان کے ساتھ معاشی نقصان بھی ہوا، معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے، اگرعوام نے کورونا ایس اوپیز کا خیال نہیں رکھا تو کیسز مزید بڑھ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ وہ کورونا ٹیسٹنگ کی استعداد کار کو مزید بڑھا رہے ہیں، دفاتر اور اسپتالوں میں آنے والوں کا کورونا کا ٹیسٹ لازمی قراردیا جائیگا جب کہ صوبے میں انسدادکورونا کی ویکسی نیشن کا عمل جاری ہے اور 16 ہزار طبی عملے کی ویکسی نیشن کردی گئی ہے۔