سعودی عرب کی کابینہ نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیرصدارت اجلاس میں ایران کی سرگرمیوں کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔ شاہ سلمان نے کل منگل کے روز کابینہ کے اجلاس ورچوئل شرکت کی۔
اس موقع پر کابینہ نے راس تنورہ اور الظہران میں یمنی باغیوں کی طرف سے حملوں کی کوشش کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور عالمی معیشت کے ایک بڑے مرپر حملے کے مترادف قرار دیا۔ کابینہ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ایرانی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے تہران پر دباﺅ ڈالے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا نے سعودی عرب میں ایران کے اشاروں پر تیل کی تنصیبات پر حملوں کی سازشیں کیں جنہیں ناکام بنا دیا گیا۔
ادھر یورپی یونین میں خارجہ پالیسی اور سلامتی کے ترجمان پیٹر اسٹانو نے منگل کو العربیہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم حوثی ملیشیا کی طرف سے سعودی عرب میں شہری آبادی پر حملوں کی پر زور مذمت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین یمن میں جنگ بندی کا حامی ہے اور ہم یمن کے تنازع کا سیاسی حل دیکھنا چاہتے ہیں۔
مسٹر اسٹانو نے یمن کی تمام جماعتوں سے بھی سیاسی حل تک پہنچنے کا مطالبہ کیا۔ یہ قابل ذکر ہے کہ حوثی ملیشیا نے گذشتہ کچھ دنوں سے سعودی عرب کے شہریوں اور معاشی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے حملے تیز کردیے ہیں۔
حوثیوں کی طرف سے سعودی عرب پر کیے جانے والے بیلسٹک اور میزائل حملوں کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ یمن میں آئینی حکومت کے حامی عرب فوجی اتحاد نے بتایا ہے کہ اتحادی فوج نے سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے 540 ڈرون بمبار طیارے اور 350 بیلسٹک مزائل تباہ کیے۔