گوادر: جیونی کے نواحی گاؤں پانوان میں پاکستانی فوج نے بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کمسن لڑکے سمیت نصف سے زائد افراد کو تشدد کے بعد جبری لاپتہ کردیا ہے۔تمام افراد آپس میں قریبی رشتہ دار ہیں۔ ان میں ایاز ولد حیات، میران ولد ھمل،ممتاز ولد ولی محمد اور بیبگر ولد اسحاق شامل ہیں۔
ذرائع نے بتایا تنویر ولد الہی بخش نامی نوجوان کو بھی پاکستانی فورسز نے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات گھر سے اٹھایا اور شدید تشدد کے بعد آج صبح چھوڑ دیا جن کی حالت تشدد کی وجہ سے خراب ہوچکی ہے اور انہیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔کچھ دیگر لوگوں کی جبری گمشدگی کا بھی بتایا جارہا ہے جس کی تاحال تصدیق نہیں ہوسکی۔
پانوان گوادر کے تحصیل جیونی سے متصل ایک ساحلی گاؤں ہے جو بلوچستان کے بیشتر مضافاتی علاقوں کی طرح مسلسل پاکستانی فوج کے زیرعتاب ہے اس سے پہلے بھی گاؤں سے 33 سالہ صادق ولد اسماعیل کو 5 مئی 2020 کو تیسری مرتبہ جبری لاپتہ کیا گیا ہے جو تاحال پاکستانی فورسز کے ٹارچر سیل میں بند ہیں آخری مرتبہ ان کے بارے میں ٹارچر سیل سے رہا ہونے والے ایک شخص نے یہ خبر دی تھی کہ جیل میں وہ شدید بیمار ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ’صادق‘ کا کسی بھی مسلح اور غیر مسلح تنظیم سے کوئی تعلق نہیں لیکن کو ان کے ایک قریبی رشتہ دار نے ایرانی بلوچستان سے بلا کرسرینڈر کے نام پر اسے پاکستانی فوج کے حوالے کیا ’صادق‘ اس سے پہلے بھی پاکستانی فوج کی تحویل میں رہ چکے تھے۔ سرینڈر کے نام پر حراست اور 15 روز کی جبری گمشدگی کے بعد انہیں رہا کردگیا لیکن چند روز بعد انہیں 5 مئی 2020 کو پھر اٹھا کر لاپتہ کردیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ان کے قریبی رشتہ دار علاقے کے دیگر لوگوں کی طرح ’ایرانی ایندھن کی حمالوں‘ سے کنٹانی ھور میں تیل کی خریداری کرتا ہے جسے سرحدی پٹی پر اپنا جائز اور ناجائز کاروبار جاری رکھنے کے لیے پاکستانی فورسز کی آشیرواد کی ضرورت رہتی ہے جس کے لیے اس نے ’صادق‘ کو قربان کیا تاکہ اس کے کاروبار کو تحفظ حاصل ہو۔
ذرائع نے مزید بتایا پانوان میں بدنام زمانہ ریاستی ایجنٹ ’حاصل ولد موسی‘ سمیت دیگر نام نہاد کاروباری افراد پاکستانی فورسز کے ساتھ مل کر نوجوانوں کے خلاف سازشیں کرتے ہیں تاکہ ان کے ناجائز کاروبار کو تحفظ حاصل ہو اور علاقے میں ان کی سماجی اور سیاسی گرفت مضبوط رہے۔حاصل ولد موسی نے ایرانی بلوچستان کے بخش دشتیاری کے شہر نگور سے ایرانی بلوچستان کے گاؤں کلانی سے تعلق رکھنے ’برکت ولد کنر‘ کے ساتھ مل کر ایک نوجوان کو اغوا کے بعد اسپیڈ بوٹ کے ذریعے بلوچستان منتقل کیا اور بندری کے ساحل پر پاکستانی فوج کے حوالے کیا جو تاحال لاپتہ ہیں۔
ایک مقامی شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جبری لاپتہ کیے گئے تمام افراد غیرسیاسی لوگ ہیں، ایندھن کی حمالی کرتے ہیں اور محض اپنے کام سے کام رکھتے ہیں لیکن علاقے میں ریاستی ایجنٹس اپنے پوشیدہ مقاصد کے لیے ان نوجوانوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا رہے ہیں تاکہ وہ بلوچستان کی ساحل پر اپنے غیرقانونی کام جاری رکھ سکیں جن میں ایرانی ایندھن کی خریداری، زمینوں پر قبضہ گیری اور منشیات کا کاروبار شامل ہیں جس سے علاقے کے مخصوص لوگوں نے ایک مختصر عرصے میں کروڑوں کمائے ہیں۔